تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 742 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 742

میں امتی نبوت کا پاناممکن ہے۔اس ضروری وضاحت کے مطالعہ کے بعد اب ختم نبوت کی حقیقت یا فیضانِ محمد سی کے جاری رہنے پر دلائل و بیانات پر غور فرمائیں۔خاتم النبیین کے متعلق دو نظریے اللہ تعالیٰ نے ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب جہانوں، سب زمانوں اور ساری قوموں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کو وہ مقام بخشا جو انسانیت کا انتہائی نقطہ اور نبوت کا آخری کمال ہے۔انبیاء انسانوں میں بہترین وجود ہیں اور حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں میں سے سب سے بہتر ، افضل اور اعمل فرد ہیں۔آپ کے اس مقام کو قرآن مجید میں لفظ خاتم النبیین سے بیان کیا گیا ہے۔قرآن مجید کو کلام الہی ماننے والے سب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان لاتے ہیں۔اس مقدمہ کلمہ اور اعلیٰ ترین لقب کی تفسیر و تشریح میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر اس بارے میں قطعا کوئی اختلاف نہیں کہ سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔یہ امر قرآن مجید کی صریح نص میں مذکور ہے۔خاتمیت محمد یہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے والوں کے دو مختلف نظریے ہیں (1) پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضانِ محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔آپ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم میھم لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔(۲) دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت فیضانِ محمد مسی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔آپ کی امت اُن تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہوگئی ہے جو بنی اسرائیل یا پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔منکرین فیضان محمدی کے دو گروہ اس دوسرے نظریے کے قائلین کے پھر دو گروہ ہیں۔اوّل جو کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس روحانی اصلاح کی ضرورت پیش آنے والی ہے اُس (742)