تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 728 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 728

استناد کو کمزور ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ خود شارحین حدیث کی اکثریت نے قرار دیا ہے کہ معراج کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبیوں سے ملاقات روحانی رنگ کی تھی جسمانی نہ تھی۔(فتح الباری اور زاد المعاد وغیرہ ملاحظہ ہوں ) اور عجیب تر یہ ہے کہ مفترین ایک طرف حدیث معراج سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ آیت میں حضرت عیسی کے رفع سے مراد جسم سمیت آسمان پر اُٹھایا جانا ہے جبکہ اُن میں سے ایک گروہ آیت بَل رَفَعَهُ اللهُ الیہ کو اس بات کی دلیل بتا رہا ہے کہ معراج کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت مسیح سے جسمانی طور پر ملاقات ہوئی تھی۔گویا اس طرح یہ لوگ جب حدیث کی تشریح کرتے ہیں تو اپنے مزعومہ معنوں پر آیت کو دلیل گردانتے ہیں اور جب آیت کی تفسیر کرتے ہیں تو اس تفسیر کے لئے حدیث کے مزعومہ معنوں کو بطور سند لاتے ہیں۔سورۃ آل عمران کی آیت میں رفع سے مراد جب ہم سورۃ آل عمران کی آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى كوسورة نساء کی آیت بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے ملا کر پڑھتے ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ پہلی آیت میں جو وعدہ تھا دوسری میں اُسی کے پورا ہونے کا ذکر ہے۔یہ وعدہ وفات ، رفع اور کافروں سے تطہیر کا تھا۔اگر چہ دوسری آیت (نساء والی آیت) میں وفات اور تطہیر کا بیان نہیں اور صرف رفع الی اللہ مذکور ہے تا ہم دونوں آیتوں میں تطبیق کے لئے ضروری ہے کہ اس سارے وعدے کو اس جگہ بھی مدنظر رکھا جائے۔پس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو وفات دی، پھر ان کا رفع فرمایا اور انہیں کافروں سے پاک ٹھہرایا۔مشہور مفسر علامہ الالوی نے متوفيك کی جو متعدد تفسیریں کی ہیں ان میں سے واضح ترین یہی معنی ہیں کہ میں تیری اجل کو پورا کروں گا اور تجھے (728)