تفہیماتِ ربانیّہ — Page 727
آخری زمانہ میں ہوں گے کیونکہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں نہ کہ مسیح کی قوم۔رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے معنی سورۃ النساء کی آیت میں بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَيْهِ وارد ہوا ہے۔بعض مفسرین بلکہ جمہور مفسرین نے اس میں رفع کی تفسیر آسمان کی طرف لے جانا کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو مسیح کی شبیہہ بنادیا اور مسیح کو جسم سمیت آسمان پر اٹھا لیا۔وہ وہاں زندہ ہے اور آخری زمانہ میں وہاں سے اُترے گا۔سُؤروں کو قتل کرے گا اور صلیب کو توڑے گا۔مفسرین اس بارے میں اول تو ان روایات پر اعتماد کرتے ہیں جو دجال کے بعد نزول عیسی کا ذکر کرتی ہیں۔یہ روایات مضطر بہ اپنے الفاظ اور معانی میں اتنا شدید اختلاف رکھتی ہیں کہ ان میں تطبیق ممکن نہیں۔اس امر کی تصریح خود علماء حدیث نے کی ہے۔مزید برآں یہ وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے تھے۔علماء جرح و تعدیل کے نزدیک ان راویوں کا درجہ تم بخوبی جانتے ہو۔دوسری بنیاد مفسرین کی وہ حدیث ہے جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔جس میں انہوں نے نزول عیسی کی خبر پر اکتفاء کیا ہے۔اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی یہ حدیث احاد ہے۔علماء کا اجماع ہے کہ احادیث احاد سے نہ تو کوئی عقیدہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی امور غیبیہ کے بارے میں ان پر اعتماد کرنا درست ہے۔مفترین کی تیسری سند وہ بیان ہے جو حدیث معراج میں آیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں کی طرف صعود فرمایا اور یکے بعد دیگرے آسمانوں کو کھولتے گئے اور ان میں داخل ہوتے گئے تو آپ نے حضرت عیسی اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت یحیی کو دوسرے آسمان میں دیکھا۔ہمارے لئے اس (727)