تفہیماتِ ربانیّہ — Page 675
مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے مولوی صاحب نے یہی ثابت کیا ہے۔اب حل طلب امر یہ ہے کہ مسیح موعود کے وقت سے کتنا عرصہ مراد ہے اور کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن کی تحریر مولوی صاحب کے اعتراض کی بناء ہے اس غلبہ کیلئے کوئی مدت مقرر کی ہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے مندرجہ ذیل حوالجات بغور ملاحظہ فرمائیں۔(۱) مسیح موعود کا زمانہ اس حد تک ہے جس حد تک اس کے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والے یا پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دنیا میں پائے جائیں گے اور اس کی تعلیم پر قائم رہیں گے۔غرض قرون ثلاثہ کا ہونا برعایت منہاج نبوت ضروری ہے۔( تریاق القلوب طبع دوم صفحہ ۳۷۸) (۲) میں نہیں کہ سکتا کہ پورے طور پر ترقی اسلام کی میری زندگی میں ہوگی یا میرے بعد میں۔ہاں میں خیال کرتا ہوں کہ پوری ترقی دین کی کسی نبی کی حین حیات میں نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کا یہ کام تھا کہ انہوں نے ترقی کا کسی قدر نمونہ دکھلایا اور پھر بعد ان کے ترقیاں ظہور میں آئیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے اور ہر انسو د واخمر کے لئے مبعوث ہوئے تھے مگر آپ کی حیات میں احمر یعنی یورپ کی قوم کو تو اسلام سے کچھ بھی حصہ نہ ملا۔ایک بھی مسلمان نہیں ہوا اور جو اسود تھے ان میں سے صرف جزیرہ عرب میں اسلام پھیلا اور مکہ کی فتح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔سوئیں خیال کرتا ہوں کہ میری نسبت بھی ایسا ہی ہوگا۔مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بار یہ وحی قرآنی ہو چکی ہے وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ـ اِس سے مجھے یہی امید ہے کہ کوئی حصہ کامیابی کا میری زندگی میں ظہور میں آئے گا۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۸۹ طبع ۱۹۲۴) (۳) خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن (نبیوں) کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو دنیا میں وہ پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہی کے (675)