تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 674 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 674

ہے۔البتہ ظاہر کے لحاظ سے ماننے والے کو مومن کہیں گے اور نہ ماننے والے کو منکر۔نبی کسی کو کافر نہیں بناتا۔نبی کی مثال آفتاب کی ہوتی ہے جس کے طلوع سے خوبصورت اور بدصورت میں امتیاز ہو جاتا ہے مگر سورج کسی کو خوبصورت یا بدصورت نہیں بناتا۔باقی رہا سزا اور جہنم کا معاملہ ،سو یہ اتمام حجت سے تعلق رکھتا ہے۔جب تک کسی شخص پر اتمام حجت نہ ہو اُس سے مواخذہ نہ ہوگا۔اور اتمام حجت ہونے کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے جو دلوں کے سب راز جانتا ہے۔اس لئے ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ ہر انکار کرنے والے پر اتمام حجت ہو چکی ہے اور وہ مستوجب سزا ہے۔مولوی ثناء اللہ امرتسری کے چند اعتراضات کے جواب مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے رسالہ تعلیمات مرزا‘ میں جو اعتراضات بڑے طمطراق سے شائع کئے تھے اور انہیں لاجواب قرار دیا تھا میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کے رسالہ کا مکمل جواب اپنی کتاب تجلیات رحمانیہ میں پورے بسط کے ساتھ دیا ہے جو ۱۹۳۱ء میں شائع ہو چکی ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب کے چند مایہ ناز اعتراضات مع جوابات اس جگہ بھی اس سلسلہ میں درج کر دیئے جائیں۔ان اعتراضات کا تعلق حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے ہے۔(۱۱) مسیح موعود اور غلبہ اسلام مولوی ثناء اللہ صاحب نے براہین احمدیہ جلد ۴ صفحہ ۴۹۸ اور چشمہ معرفت صفحہ ۸۳ کے حوالہ سے دو عبارتیں نقل کی ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کو غلبہ دیا جائے گا اور تمام قو میں گویا ایک ہی قوم کی طرح ہو جائیں گی۔ان عبارتوں کے بعد آپ کے اعتراض کے الفاظ حسب ذیل ہیں :- ناظرین کیا ایسا ہو گیا کہ تمام اقوام دنیا اس مدعی مسیح موعود کے وقت میں ایک ہی قوم بن گئیں ؟ فیصلہ با انصاف ناظرین کے ہاتھ میں ہے۔“ ( تعلیمات مرزا صفحه (۱۶) الجواب۔فیصلہ بالکل آسان ہے۔مسیح موعود کے زمانہ میں وحدت مذہبی ہونی (674)