تفہیماتِ ربانیّہ — Page 660
الجواب الثالث - اگر انسان غور کرے کہ شاعری ایک ملکہ ہے ، ایک خداداد قابلیت ہے کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مذمت کرتا ہے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس ملکہ کا برا استعمال ہی بُرا ہے ورنہ اچھے شعر کہنا مومن کی شان کے منافی نہیں۔بلکہ قرآن مجید نے اسے مومنوں کے لئے خدمت دین اور کفار سے بدلہ لینے کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔فرمایا :- إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا (الشعراء رکوع ۱۱) ترجمہ۔ہاں وہ شاعر منتقلی ہیں جو مومن ہیں، اعمال صالحہ بجالاتے ہیں ، ذکر الہی کرتے رہتے ہیں اور مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیتے ہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان مِنَ الشَّعْرِ لَحِكْمَةَ كه بعض شعر حکمت پر مشتمل ہوتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ مقفی عبارت منافی کنبوت نہیں۔چنانچہ خودسرور کائنات سے بعض روایات میں بعض موزوں اور مقفی عبارتیں مروی ہیں۔مثلاً ے إِنْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعُ دَمِيتِ * وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ یہ فقرہ آپ نے اپنی زخمی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے سے (بخاری کتاب المغازی) کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے (۲) حقیقت معراج معترض بیٹیالوی نے لکھا ہے :۔جمہور اسلام معراج جسمانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل ہیں۔۔۔مرزا صاحب کا معراج جسمانی سے انکار خاص طور پر اس وجہ سے ہے کہ وہ حضرت عیسی کی آسمانی زندگی سے انکاری ہیں۔اگر معراج جسمانی کو مان لیتے تو حیات و رفع حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی ان کو قائل ہونا پڑتا۔“ (عشرہ صفحہ ۸۹) (660)