تفہیماتِ ربانیّہ — Page 659
" وَمَرْتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَافِي أَنْ يَغُلَطَ وَتَعَالَى مِنْ اَنْ يَغُلَطَ وَالشِّعْرُ وَإِنْ كَانَ مُفِيدًا لِلْخَوَاقِ وَالْعَوَاةِ فَإِنَّ النَّاسَ فِي بَابِ الْإِقْدَامِ وَالْإِحْجَامِ أَطْوَعُ لِلتَّخْيِيْلِ مِنْهُمْ لِلتَّصْدِيقِ إِلَّا انَّ مَدَارَهُ عَلَى الْأَكَاذِيبِ وَمِنْ ثَمَّةَ قِيْلَ أَحْسَنُ الشَّعْرِ الذَبُهُ فَلَا يَلِيقُ بِالصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ " كَمَا يَشْهَدُ بِهِ قَوْلُهُ تَعَالَى وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ “ (الحاشية الكبرى على شرح المطالع صفحه ۷۴-۷۵ ترجمہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ آپ غلط بیانی کریں۔یہ آپ کی شان کے منافی ہے۔شعر اگر چه عوام و خواص کے لئے مفید ہے کیونکہ لوگ آگے بڑھنے اور پسپا ہو جانے میں حقیقت کی نسبت تخیل کے زیادہ تابع ہوتے ہیں مگر ایسے شعروں کا مدار جھوٹ پر ہوتا ہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ بہترین شعر وہ ہے جو زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ایسا شعر صادق نبی کے شایاں نہیں جیسا کہ آیت وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ گواہی دیتی ہے۔" یعنی آیت وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعر میں شعر سے مراد پر کذب شعر ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان معنوں سے کوئی شعر نہیں کہا۔شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی نے شعر کے متعلق لکھا ہے :- جو شخص معمولی آدمیوں سے بڑھ کر کوئی مؤثر اور دلکش تقریر کرتا تھا اس کو شاعر جانتے تھے۔جاہلیت کی قدیم شاعری میں زیادہ تر اسی قسم کے برجستہ اور دلآویز فقرے اور مشلیں پائی جاتی ہیں جو عرب کی عام بول چال سے فوقیت اور امتیاز رکھتی تھیں۔یہی سبب تھا کہ جب قریش نے قرآن مجید کی نرالی اور عجیب عبارت سنی تو جنہوں نے اس کو کلام الہی نہ مانا وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہنے لگے حالانکہ قرآن شریف میں وزن کا مطلق التزام نہ تھا۔“ (مقدمہ شعر و شاعری صفحه ۲۷) (659)