تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 656 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 656

وو ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ تحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا، اُن میں سے اکثر تقولٰی تعلق باللہ، دیانت، خلوص علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی ، مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی ، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولانا عبدالجبار غزنوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، اور دوسرے اکابر رَحِمَهُمُ اللَّهُ وَ غَفِرَ لَهُمْم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگر چہ یہ الفاظ سُننے اور پڑھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبار اور رسائل چند دن انہیں اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے۔تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہو اوہاں ان کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں اور دوسری جانب ۵۳ء کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا ۱۹۵۶-۵۷ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو۔“ (المنیر لائل پور ۲۳ فروری ۱۹۵۶ء) یہ گواہی ۱۹۵۶ء کی ہے اور آج ۱۹۶۴ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آٹھ سال کے بعد ، جماعت احمدیہ کا قدم بہت آگے ہے۔اور دن بدن ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔پس مولوی ثناء اللہ صاحب کی وفات نے نیل مرام ہوئی۔لہذا ان کے محض چالیس سال بعد تک زندہ رہنے سے تو احمدیت کی صداقت اور بھی نمایاں ہوئی ہے اے کاش لوگ غور اور تدبر سے کام لیں۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (656)