تفہیماتِ ربانیّہ — Page 649
ایک غلط استدلال کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب اور اُن کے ہمنوا عام طور پر استدلال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اس دُعائے مباہلہ (اشتہار ۱۵ را پریل عاء) کے متعلق ہے۔لہذا یہ دُعا منظور شدہ دُعا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات (نعوذ باللہ) ان کے کذب کی دلیل ہے۔اس استدلال کے جواب میں یادرکھنا چاہئے کہ اشتہار ار اپریل دُعائے مباہلہ ہے، جیسا کہ ثابت کیا جاچکا ہے، اس دُعائے مباہلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فرمانا انہی معنوں میں ہے جن معنوں میں آیت مباہلہ میں الفاظ فَتَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ہیں۔یہ بھی خدا کا کلام ہے اور وہ بھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ ان نصاریٰ نجران کو دعوت مباہلہ دو، ہم ان جھوٹوں پر لعنت نازل کر دیں گے۔حضور علیہ السلام نے ان کو دعوت مباہلہ دی۔اور اس یقین کے ساتھ دی کہ اگر یہ مباہلہ کریں گے تو ایک سال کے اندر اندر تباہ ہو جائیں گے۔جیسا کہ حضور کے الفاظ لھا حَالَ الحَولُ عَلَى النَّصَارَى كُلِهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۴۶۵) سے ظاہر ہے۔مگر نصاریٰ نجران نے مباہلہ سے انکار کر دیا اس لئے وہ بچ گئے۔بعینہ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تحریک کی کہ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کردو۔میں دُعا کو سنتا ہوں یعنی اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مباہلہ کیا تو وہ ضرور پہلے مرے گا۔چنانچہ حضرت اقدس نے اس یقین کے ساتھ دُعائے مباہلہ شائع کر دی لیکن نصاری نجران کی طرح اس جگہ بھی مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور فرار کی راہ اختیار کی اس لئے وہ بچ گیا۔پس حضرت کے اس الہام کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کی تاکید فرمائی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبل از میں اپنے الفاظ میں لکھ چکے ہیں کہ اگر اس پینج پر وہ ( مولوی ثناء اللہ صاحب ) مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔“ -: پس الهام أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ سے بھی مولوی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا استدلال غلط ہے۔(649)