تفہیماتِ ربانیّہ — Page 618
خط میں مولوی محمد حسین صاحب کو یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ اگر آپ آنا منظور کریں گے تو میں موٹر کار بھجوادوں گا۔جس پر آپ چکر لگا کر واپس جاسکیں گے۔اس لطیف اور ایمان افروز مکتوب کے جواب میں مولوی محمد حسین صاحب نے جو کچھ لکھا تھا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ :- میں آپ کی اس دعوت کو منظور نہیں کر سکتا اور نہ ہی میں قادیان آنے کے لئے تیار ہوں۔حدیث میں ہے لَا تَشَدُّ الرِجَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ۔باقی آپ کا یہ استدلال کہ چونکہ مرزا صاحب کے ماننے والے بڑھ گئے ہیں اس لئے وہ سچے مسیح موعود ہیں اس لئے غلط ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں تو ساری دُنیا کے لوگوں کا مسلمان ہو جانا لازمی ہے۔اور ابھی تک تو قادیان میں بھی ہندو اور سکھ موجود ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے جوابی خط میں ”مرزائی“ کا لفظ استعمال کیا تھا۔اس کی تشریح میں کہا کہ مرزا صاحب کو ہم احمد نہیں مانتے ، اس لئے ان کے پیروؤں کو احمدی نہیں کہہ سکتے۔البتہ ان کو مرزا مانتے ہیں اس لئے ان کے ماننے والوں کو مرزائی کہیں گے۔اُن سے کہا گیا کہ مرزے تو دُنیا میں ہزاروں ہیں۔اس سے تو کوئی تعیین نہیں ہوتی۔کہنے لگے آگے چلو۔جب مولوی صاحب نے کہا کہ مسیح کے آنے پر سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔تو میں نے کہا کہ کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قوت قدسیہ کے مالک ہوں گے؟ آنحضرت کی بعثت پر چودہ سو برس گذرنے کے باوجود تو سارے لوگ مسلمان نہیں ہوئے ؟ نیز قرآن مجید میں تو لکھا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ۔کہ قیامت کے دن تک یہودی مغلوب رہیں گے۔اگر اُن کا وجود ہی نہ ہوگا تو وہ مغلوب کیسے ہوں گے؟ مولوی صاحب نے جھنجھلا کر فرمایا تمہیں قادیان میں قرآن درست نہیں پڑھایا جاتا۔آیت میں محذوف ہے جس کا تم کو پتہ نہیں۔میں نے کہا آپ بتادیں کہ وہ کیا محذوف ہے؟ (618)