تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 602 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 602

بھی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔“ (اشتہار ۶ ستمبر ۱۸۹۴) ناظرین! اب قابل غور امر یہ ہے کہ اگر یہ دعویٰ ثابت ہو جائے کہ فی الواقع مرزا سلطان محمد نے اس شرط کے مطابق رجوع اور خوف سے فائدہ اُٹھا کر مہلت حاصل کی ہے تو کیا معترض کا یہ اعتراض کچھ وزن رکھتا ہے؟ پیشگوئیوں کے اصول ۳ و ۵ پر نظر کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شرط کی تصریح کر دینے پر غور کریں، اور پھر بتا ئیں کہ کیا ضرور نہ تھا کہ ان حالات میں سلطان محمد موت سے بچ جاتا ؟ بالخصوص جب کہ اس پیشگوئی کی بناء ہی ان لوگوں کی شرارت اور سرکشی تھی۔پیشگوئی کی بناء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے :- ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد، اور کیا عورت ، مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دوکاندار خیال کرتے ہیں۔اور بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے۔“ (تتمہ اشتہار جولائی ۱۸۸۸ء) خود پٹیالوی صاحب کو بھی اعتراف ہے کہ : ”مرزا صاحب کی اس پیشگوئی کی بنیاد بھی تکذیب ہی ہے جیسا کہ نکاح آسمانی کی پیشگوئی کے متعلق ان کا پہلا الہام ہے كَذَّبُوا بِآيَاتِي وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُنَ الله پس اگر پیشگوئی وعید کی ہی مان لی جاوے۔تو بھی اس کی بناء تکذیب رسول قادیانی پر تھی۔" (تحقیق لاثانی صفحہ ۱۱۱) اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی کی بناء نفس پرستی وغیرہ پر نہ تھی، بلکہ محض تکذیب و استہزاء کی سزا کے طور پر تھی۔اور یہ وعیدی پیشگوئی تھی۔کیونکہ انذار اور عذاب کی پیشگوئی کا ہی نام وعیدی پیشگوئی ہوتا ہے۔پھر معترض پٹیالوی ایک اور جگہ لکھتا ہے :۔" بفرض محال یہ پیشگوئی اگر سلطان محمد کے حق میں وعید کی تھی تو تو بہ، استغفار، صدت، رجوع الی الحق سے مل سکتی تھی۔مگر (602)