تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 583 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 583

ہاویہ سے کیا مراد ہے؟ حضرت کی طرف سے جو تشریح جنگ مقدس کے آخری صفحات میں مندرج ہے وہ کیا ہے؟ سو یا در ہے کہ اس جگہ ہاویہ کے معنے موت کئے گئے ہیں۔معترض پٹیالوی نے جنگ مقدس صفحہ ۱۸۹ کا حوالہ یوں نقل کیا ہے کہ : -: وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے، وہ پندرہ ماہ کے اندر آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۱ نیز الہامات صفحہ ۵) گویا اصل الفاظ میں جس ہاویہ کا ذکر ہے وہ سزائے موت کا دوسرا نام ہے۔اور یہ بیچ ہے کہ یہ ہاویہ رجوع کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔آتھم کا رجوع ثابت ہو گیا اور وہ اس ہاویہ (موت ) میں اس مدت میں نہ گرا۔فلا تعارض بینہما۔الجواب الثانى :- سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں میں اس اشکال کا جواب بصراحت موجود ہے۔چنانچہ انوار الاسلام کے جو حوالجات اس باب میں مولوی ثناء اللہ امرتسری نے نقل کئے ہیں۔ان میں بھی لکھا ہے۔(الف) ” اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اُس کے مصائب کو جانچو جو اُس پر وارد ہوئے۔تو تمہیں کچھ بھی اِس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بیشک ہادیہ میں گرا ، ضرور گرا۔اور اُس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور ہماری تشریحی عبارات میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوئی۔“ (ب) " جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اُس کے دامنگیر ہو گیا، اور ہول اور خوف نے اُس کے دل کو پکڑ لیا یہی اصل ہاویہ تھا۔اور سزائے موت اس کے کمال کیلئے ہے۔“ (الہامات صفحہ ۲۲، ۲۳) 583