تفہیماتِ ربانیّہ — Page 582
معاملہ صاف ہو گیا کہ درحقیقت آتھم قسم کو نا جائز سمجھ کر انکار نہ کرتا تھا۔بلکہ لعنت کے طوق سے ڈرتا تھا۔اور اس کے باقی عذرات کہ ہمارے مذہب میں قسم جائز نہیں، عدالت میں تم دعویٰ کرو، وغیرہ وغیرہ۔پر پشہ کے برابر وقعت نہیں رکھتے تھے۔لیکن جانتے ہو کہ جس لعنت کے طوق سے آتھم ڈرتا تھا۔وہ ایک سال (بعد از قسم) کے بجائے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر ہی اُس کے گلے کا ہار بن گیا۔اور خدا کے مسیحا کی بات روز روشن کی طرح پوری ہو گئی۔الحمد للہ۔ز بر دست اعتراض“ یعنی رجوع اور ھاویہ؟ معترض پٹیالوی نے ایک دوسرے منکر کی کتاب النجم الثاقب صفحہ ۲۳ کے حوالہ سے اعتراض کیا ہے۔اور اس کو زبر دست اعتراض ٹھہرا کر جواب کا مطالبہ کیا ہے۔اعتراض کے الفاظ حسب ذیل ہیں :- مضمون صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے تو ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔یعنے اگر رجوع کرے گا تو ہاویہ کی سزا سے بچ جائے گا۔رجوع الی الحق اور سزائے ہاویہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے آتھم کے بھاگے پھرنے اور سراسیمہ ہونے کا نام رجوع الی الحق بھی رکھا ہے اور ہادیہ میں گرنا بھی۔اب سوال یہ ہے کہ رجوع اور ہادیہ کا جمع ہونا تو الہام کی رُو سے ناممکن ہے۔بیچارہ آتھم اگر رجوع کر چکا تو پھر ہادیہ اس پر کہاں سے آگیا؟ یا تو رجوع ہی کرتا یا ہادیہ میں گرتا ؟ (عشره صفحه ۱۵۳) الجواب الاول : معترض نے رجوع اور ہادیہ کو از روئے الہام دونہ جمع ہو سکنے والی چیزیں بتایا ہے۔ہم اِس حصہ میں معترض کی ضرور تصدیق کرتے بشر طیکہ وہ دیانتداری سے کام لیتا۔یہ درست ہے کہ پیشگوئی کے لفظ ہاویہ اور رجوع حضرت کی تشریح کے مطابق ممتنع الاجتماع ہیں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اس جگہ (582)