تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 564 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 564

کے سامنے سورج کی طرح متجلی نہیں ہوتیں۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر اُن کو ایمان کا کوئی ثواب یا اجر نہیں مل سکتا۔چنانچہ سورج پر ایمان لانا شرعی طور پر ثواب کا مستحق نہیں بناتا۔پس پہلا معیار تو یہ ہے کہ کوئی پیش گوئی ایسے طور پر پوری نہیں ہو سکتی جو منکرین کو ” یومنون بالغیب“ کے دائرہ سے باہر لے جائے اور نہ ہی کسی مکذب کا حق ہے کہ اپنی کمزور آنکھوں کے باعث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے متعلق ایسا مطالبہ کرے کیونکہ یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے۔اس کے انبیاء کے عام دستور کے مخالف ہے۔دوسرا معیار نبی کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔بشیر نذیر۔اسی کے مطابق اس کی پیشگوئیوں کے بھی دو حصے ہوتے ہیں۔جو حصہ بشارتوں پر مشتمل ہوتا ہے وہ اصطلاحاً وعد ہ کہلاتا ہے۔اور ہے۔اور جو حصہ انذار پر مبنی ہوتا ہے اُسے اصطلاحی طور پر وعید کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔وعدہ ہو یا وعید ہر دو قسم کی پیشگوئیاں اپنے مرکزی نقطہ (ایمان پیدا کرنا) کے گرد ہی چکر لگاتی ہیں۔وعدہ میں خوشخبری کے ذریعہ ایمان پروری کی جاتی ہے۔اور وعید میں منکرین کو خوف دلا کر رجوع اور انابت الی اللہ کے لئے متوجہ کیا جاتا ہے۔اب اگر اس وعید کے ظہور پذیر ہونے سے قبل ہی یہ غرض پوری ہو جائے تو اس وعید کامل جانا ہی سنت الہی ہے اور اس سے نفس پیشگوئی پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں :- وَالْأَصْلُ فِي هَذَا عَلَى مَا قَالَ الْوَاحِدِيُّ اَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَجُوزُ أن يُخْلِفَ الْوَعِيْدَ وَإِنِ امْتَنَعَ أَنْ يُخْلِفَ الْوَعْدَ وَبِهَذَا وَرَدَتِ السُّنَّةُ فَفِي حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَعَدَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَى عَمَلِهِ ثَوَاباً فَهُوَ مُنْجِزٌ لَهُ وَمَنْ اَوْعَدَهُ عَلَى عَمَلِهِ عِقَابًا فَهُوَ بِالْخِيَارِ وَمِنْ أَدْعِيَةِ الْأَئِمَّةِ الصَّادِقِينَ يَا مَنْ إِذَا وَعَدَ وَفَا وَإِذَا تَوَهَّدَ عَفَا وَقَدِ افْتَخَرَتِ الْعَرَبُ بِخُلْفِ الْوَعِيدِ وَلَمْ تَعُدَّهُ نَفْسًا كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ قَوْلُهُ (564)