تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 563 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 563

اور وہ ہمیشہ یہی کہتے رہتے ہیں لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ (الانعام رکوع ۴ ) کہ اس کی کوئی پیشگوئی تو سچی نکلتی۔کوئی نشان تو پورا ہوتا۔سچ ہے ہنر بچشم عداوت بزرگ تر کیسے است گل است سعدی و در چشم دشمنان خار است سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی صداقت کیلئے معقولیت ، منقولی دلائل اور زمانہ کی حالت کو پیش کیا مگر لوگوں نے انکار کیا۔آپ نے نشانات اور منجزات کے ذریعہ سے اتمام حجت کی مگر وہ اپنی تکذیب پر مصر رہے۔حضرت کی پیشگوئیاں ہزاروں کی تعداد میں اور ہر رنگ میں پوری ہوئیں۔آپ کی ذات، کاموں اور عمر کے متعلق ، اپنی اولاد کی پیدائش ، ترقی اور دیگر حالات کے متعلق ، اپنے گھر والوں کے متعلق ، دوستوں کے متعلق ، خاندان، چار دیواری ، شہر، صوبہ ، ملک اور دُنیا کے متعلق۔الغرض ہر حصہ کے متعلق آپ نے پیشگوئیاں فرما ئیں اور وہ پوری ہو کر مومنوں کیلئے از دیاد ایمان کا موجب ہوئیں۔لیکن فرزندانِ تاریکی کی سنت کے مطابق آپ کے مخالفین نے بھی اس بارہ میں بہت شور مچایا ہے۔معترض پٹیا لوی لکھتا ہے :- اس فصل میں ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی متحد یا نہ پیشگوئیوں کی کیا حقیقت ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۰) ظاہر ہے کہ مکذب ہو کر پیشگوئیوں کی حقیقت سے آگاہی کا دعویٰ بہت بے جوڑ ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس نے اس فصل میں پیشگوئیوں پر چند اعتراض کئے ہیں۔ہم ان کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے حسب وعدہ پیشگوئیوں کی پڑتال کے متعلق قرآن مجید ، نصوص حدیثیہ اور واقعات کی رو سے چند معیار اختصار اذکر کرتے ہیں۔پیشگوئیوں کے دس معیار واصول پہلا معیار :- ظاہر ہے کہ پیش گوئی کی غرض ایمان پید ا کرنا ہے۔نبی کا کام کشت دل میں تخم ایمان کا بونا ہے۔اور اس تخمریزی کے متعدد طرق میں سے ایک طریق پیشگوئی بھی ہے۔یادر ہے کہ ایمان و ہی مقبول ہے جو ” يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا مصداق ہو۔یہ دُنیا دار العمل ہے۔اس جگہ ایمانیات کفار اور منکرین (563