تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 517 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 517

پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔حتی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے۔“ (قیام الصلح اردو صفحه ۲۶ حاشیه ) صاف ظاہر ہے کہ اس عبارت میں حضرت مریم علیہا السلام پر کوئی الزام نہیں لگا یا گیا بلکہ یہودی اور افغانوں میں ایک تمدنی مشارکت کا ذکر کیا گیا ہے۔جس میں حضرت مریم صدیقہ کا یوسف کے ساتھ قبل نکاح صرف پھر نا درج ہے۔اگر معترض دیانتدار ہوتا تو اس واضح بیان پر اعتراض نہ کرتا لیکن اس کی فطرت نے جب اس صاف عبارت میں کوئی پہلو مخلوق کی گمراہی کا نہ پایا تو اس نے از راہ خیانت عبارت کو ہی بدل دیا اور اس نے حضرت کی کتاب ایام اصلح صفحہ ۶۵ سے حسب ذیل عبارت منسوب کر دی نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔افغان یہودیوں کی طرح نسبت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں کرتے۔لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی کچی شہادت ہے۔اور بعضے پہاڑی خواتیں کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“ اور پھر بطور نتیجہ خود لکھا ہے :- مریم اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی تھی اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھی اور قوم افاغنہ کی طرح قبل از نکاح ہی حاملہ ہوگئی تھی۔‘ (عشرہ صفحہ ۱۱۴) ناظرین! خدارا ابتلائے کہ معترض کے نتیجب کا آخری جلی قلم فقرہ اس کے منقولہ حوالہ (517)