تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 498 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 498

بددیانتی ہے۔اس کے گاؤں (جمال پور) کے پچاس سے زائد معززین کی جن میں ہندو اور دوسرے مسلمان شامل ہیں۔گواہیاں شائع شدہ ہیں کہ وہ ایک نہایت راستباز ، پاک طینت اور پکا نمازی ہے۔ہاں اس صاحب کشف بزرگ کا فقرہ جسے معترض نے اندرونی بغض کے ماتحت حضرت کا فقرہ ظاہر کیا ہے یہ ہے :- عیسی اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور قرآن کی رُو سے فیصلہ کرے گا اور کہا کہ مولوی اس سے انکار کریں گے۔پھر کہا کہ مولوی انکار کر جائیں گے۔تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں ، قرآن تو اللہ کا کلام ہے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہو گئیں۔الف (ازالہ اوہام صفحہ ۲۸۸) گویا نہ اُس بزرگ نے فرمایا اور نہ حضرت کو دعوی ہے کہ قرآن مجید میں کوئی غلطی ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے حضرت آئے ہیں بلکہ تفسیروں کی غلطیاں مراد ہیں۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ موجودہ وقت میں قرآن پاک کی تفاسیر کے ذریعہ قرآن مجید پر بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کر دیا گیا ہے۔ت مسیح موعود علیہ السلام کی حیثیت از روئے احادیث حکم عدل ہے۔ان کا ہی کام تھا کہ ان تفسیری اغلاط کا ازالہ فرماویں۔ایسے دعوی میں کیا مجرم ہے۔اور اس حضرت کام کے کرنے میں جو مسیح موعود کا فرض منصبی ہے کیا الزام ہے؟ تَدَبَّرُ وَتَفَكَّرُ! اسی بناء پر میں کہتا ہوں کہ حضرت اقدس کا قرآن مجید کے وہ معانی بیان فرمانا جو علماء وقت کے خیال کے خلاف ہیں قابل تعجب نہیں۔کیونکہ جیسا کہ ہم گزشتہ صفحات میں درج کر چکے ہیں یہ پہلے سے مقدر تھا کہ علماء وقت مہدی معہود اور مسیح الزمان کے متعلق کہیں گے کہ اس نے ہمارے دین کو بگاڑ دیا ہے۔اب اگر آنے والا موعود ان کہلانے والے مولویوں کا سرا پا نقش ثانی ہوتا تو بھلا وہ کب ایسا کہتے ؟ پس معترض کا یہ اعتراض کہ مرزا صاحب علماء سوء کے مخالف معنی کرتے ہیں درست ہے اور ایسا ہونا ضروری تھا۔مسیح موعود کا انہی تفسیری اغلاط کو دور کرنے کے لئے آنا (498)