تفہیماتِ ربانیّہ — Page 488
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے :- " يَأْتِي الْمَلَكُ أَحْيَانًا فِي مِثْل صَلْصَلَة - الْجَرَسِ فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدُهُ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَهُوَ اشَدُّهُ عَلَى وَيَتَمَثَّلُ لِي الْمَلكَ أَحْيَانًا رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ - بخاری باب ذكر الملائكة جلد ۲ صفحه ۱۳۲) کہ فرشتہ کا آنا کبھی تو گھنٹی کی آواز کے تمثل سے ہوتا ہے۔جب یہ حالت جاتی رہتی ہے تو میں اس کے قول کو محفوظ کر لیتا ہوں اور یہ صورت مجھ پر سخت ہوتی ہے۔اور بعض دفعہ وہ انسان کے تمثل میں آتا ہے۔میں اس کی بات کو ساتھ ساتھ یاد کر لیتا ہوں۔“ گویا بہر صورت فرشتہ کا نزول در باره وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیلی ہی مانا ہے اور یہی مذہب تمام محققین کا ہے اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت نے شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی کی کتاب مدارج النبوت سے جبرائیل سے تمثلی نزول کو نقل کر کے تحریر فرمایا ہے :۔" خدا تعالیٰ شیخ بزرگ عبد الحق محدث کو جزاء خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کر لیا کہ جبرائیل علیہ السلام بذات خود نازل نہیں ہوتا بلکہ ایک تمثلی وجود انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے اور جبرائیل اپنے مقام آسمان میں ثابت اور برقرار ہے۔یہ وہی عقیدہ اس عاجز کا ہے جس پر حال کے کور باطن نام کے علماء کفر کا فتوی دے رہے ہیں۔افسوس کہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس بات پر تمام مفسرین نے اور نیز صحابہ نے بھی اتفاق کیا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے حقیقی وجود کے ساتھ صرف دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دیا ہے۔اور ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ اپنے اصلی اور حقیقی وجود کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو خود یہ غیر ممکن تھا کیونکہ ان کا حقیقی 488