تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 471 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 471

کہ کیا یہ لوگ خود رحمت ربانی کو تقسیم کرنے والے ہیں؟ ہم نے تو خود ان کی زندگی کے سامان ان میں تقسیم کئے ہیں۔(۱۰) قوله - نبوت کے بارہ میں آپ کی امت کے دو فریق لاہوری اور قادیانی بن گئے ہیں۔اول الذکر ان کو نبی نہیں مانتے اور ابتدائی اقوال سے سند پکڑتے ہیں۔“ ( عشر صفحہ ۱۰۳) اقول - ان کا محض ابتدائی اقوال سے سند پکڑنا اور باقی حصہ اقوال کو ترک کر دینا ہی ان کے غلط کار ہونے کی دلیل ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضٍ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ، فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا = (بقرة رکوع ۱۰) کہ کیا تم ایک حصہ کتاب کو مانتے ہو اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو؟ جو تم میں سے ایسا کرے گا وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوگا“ یوں اختلاف بالذات موجب قدح نہیں۔مسلمان کہلانے والوں کے تہتر فرقے ہو گئے۔کیا اس سے آنحضرت کی صداقت پر اعتراض ہوسکتا ہے؟ حضرت مسیح ناصری کے بعد مختلف فرقے ہو گئے تھے۔شیعہ مٹی کا تنازع تیرہ سو برس سے آرہا ہے۔پس اختلاف فی ذاتہ اعتراض کے قابل نہیں۔مزید برآں لاہوری فریق ( غیر مبایعین) کا یہ اختلاف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک اور دلیل ہے کیونکہ حضرت عیسی کے وقت میں بھی ان کے کچھ ماننے والوں نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا تھا کہ وہ نبی نہ تھے صرف ایک ولی تھے۔یہ لوگ فرقہ عنانیہ کے نام سے موسوم تھے۔ان کا قول تھا۔إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَوْلِيَاء اللهِ تَعَالَى وَإِنْ لَمْ يَكُن نَبِيًّا۔اِعْتِقَادَاتُ فِرَقِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ “ (مصنفہ امام فخر الدین رازی مطبوعه مصر صفحه ۸۳) کہ حضرت مسیح اولیاء اللہ میں سے تھے نبی نہ تھے۔فرقہ عنانیہ کا یہی عقیدہ کتاب الملل والنحل للشهرستاني برحاشيه الفصل في الملل و النحل لابن حزم جلد ۲ صفحه ۵۴-۵۵ مطبوعہ مصر پر بھی درج ہے۔471