تفہیماتِ ربانیّہ — Page 405
بے قرار تھے، چشمہ شیریں ان کے لئے جاری ہوا۔مگر انہوں نے اس طرف کا رُخ نہ کیا۔آہ! اب ان کے لئے رونا اور دانت پینا ہوگا اور کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا۔معترض پیٹیا لوی لکھتا ہے :۔اپنی دعاؤں کی قبولیت کا مرزا صاحب کو بڑا بھاری دعوی تھا۔اور نہ صرف دعوئی بلکہ اس کو اپنا معجزہ بتلایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اور مرزائیوں کے نزدیک ان کا صاحب معجزہ استجابت دعا ہونا مسلّمہ ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۹۱) ہمیں اس جگہ معترض کی اس تحریر سے بکلی اتفاق ہے۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو منجانب اللہ یہ معجزہ عطا کیا گیا ہے تبھی تو اہلِ دنیا اس میں آپ کے مقابلہ سے عاجز و مبہوت رہ گئے۔مصنف عشرہ نے اس فصل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض دعاؤں پر بحث کی ہے لیکن ان سے پہلے ایک ضمنی اعتراض بھی کیا ہے۔لہذا ہم پہلے اس اعتراض کا جواب لکھتے ہیں بعد ازاں نمبر وار دعاؤں کے متعلق گفتگو کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔قادیان ، جماعت احمدیہ ، اور طاعون کی پیشگوئی معترض مذکور لکھتا ہے :- مرزا صاحب نے بڑے زور شور سے متحد یا نہ پیشگوئی کی تھی کہ ”قادیان میں ہرگز طاعون نہ ہوگا۔( دافع البلاء صفحہ ۶ و ۷ ) اور پھر پیشگوئی کی تھی۔کہ میرے مرید طاعون سے محفوظ رہیں گے۔(کشتی نوح صفحہ ۲) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرزا صاحب کی یہ دونوں شیخیاں بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح بالکل غلط اور جھوٹ ثابت ہوئیں۔(عشرہ صفحہ ۹۰) الجواب - قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہود نا مسعود کے علماء کی اس شرارت کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ قرآن مجید کو سکتے اور اس میں تحریف کر کے دوسروں کو بدظن اور متنفر کرتے تھے۔فرما یا يَسْمَعُونَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (البقرة) لے پیشگوئیوں کے متعلق ان کے مایہ ناز اعتراضات کی اصلیت فصل دہم میں مذکور ہے۔(ابوالعطاء) (405)