تفہیماتِ ربانیّہ — Page 404
وہ یہ کہ اگر چہ عام اوقات میں ان کی ہر دعا کا بعینہ قبول کیا جانا ضروری نہیں بلکہ بعض اوقات الہی مصلحتوں کے ماتحت ان کی دعا اس رنگ میں پوری نہیں ہوتی۔لیکن جب کبھی دشمنوں سے اس خصوص میں ان کا مقابلہ ہو تو ہمیشہ ان کی ہی سنی جائے گی اور ان کے مخالف نا کام ، نامراد اور مردود کئے جائیں گے۔ابتداء سے سنتِ الہی اسی طرح پر جاری ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے کہ ایک برگزیدہ حق کے مقابلہ پر اہل باطل نے دعا کی ہو اور وہ ذلیل نہ ہوئے ہوں۔عقلاً بھی جب طوفان کے وقت دو میں سے صرف ایک کشتی کو بچایا جاسکتا ہو کیونکہ دونوں کا آپس میں مقابلہ ہے تو اسی کو ترجیح دی جائے گی جس میں عادل و منصف بادشاہ بیٹھا ہے۔دوسری کشتی جو بدمعاشوں یا معمولی انسانوں کی ہے اسے غرق ہونے کے لئے سمندر کی لہروں کے سپر د کر دیا جائے گا۔بلتم جو اپنی ولایت کا دم مارتا تھا جب وہ موسیٰ ایسے جلیل الشان مقرب الہی سے دعا میں مقابل ہوا تو فنا کر دیا گیا، اُسے راندہ درگاہ بنادیا گیا اور موسیٰ کی ہی سنی گئی۔تمام انبیاء اور خاصانِ حق کا یہی حال ہے۔اس خصوصیت کا ہر جگہ نمایاں ظہور نظر آتا ہے۔اس کا نام محبزہ استجابت دعا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جو مادہ پرستی میں از منہ سابقہ سے بہت آگے ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے تعلقات کو محض افسانہ اور داستان پارینہ قرار دیا جاتا ہے۔الہیات کو بچوں اور ان پڑھوں کی باتیں بتایا جاتا ہے۔دلوں سے یقین اُٹھ چکا ہے۔ایمان کے دعاوی ہیں مگر بے حقیقت۔ذات باری پر ایک زندہ اور کامل یقین پیدا کرانے کے لئے نشانات ، چمکتے ہوئے معجزات ، دلائل عقلیہ، براہین ساطعہ کے علاوہ آپ نے قبولیت دعا کا اعجازی نشان بھی پیش فرمایا۔یہ وہ آسمانی حربہ تھا جس نے شک وشبہات کے تمام پردوں کو تار تار کر دیا اور ظلمت و تاریکی کونور سے بدل دیا۔یہ وہ آب حیات تھا جس نے لاکھوں مردوں کو زندہ کر دیا اور بے شمار اندھوں کو آنکھیں ، بہروں کو کان اور گونگوں کو گویائی بخشی۔اس مسیحائے زماں پر خدا کی بے شمار برکتیں نازل ہوں، اس کے آنے سے ایک عالم زندہ ہو گیا۔افسوس اُن پر جو ہنوز وادی ظلمت میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔یہ نور کے متلاشی تھے، نور ان کے لئے چمکا۔پر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔یہ پانی کیلئے (404)