تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 380 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 380

فِي هَذَ الْعَامِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ عَلِمَ مِنْ مَصْلِحَةَ تَاخِيرِهِ إِلَى وَقْتِهِ مَالَمْ تَعْلَمُوا أنْتُمْ فَانْتُمْ أَحْبَبْتُمْ اِسْتِعْجَالَ ذَالِكَ وَالرَّبُّ تَعَالى يَعْلَمُ مِنْ مَصْلِحَةِ التاخير - ترجمہ - اللہ تعالیٰ نے اس میں خبر دی ہے کہ اللہ کے رسول کی رویا بیت الحرام میں امن کے ساتھ داخل ہونے کے متعلق ضرور بچی ہے اور وہ عنقریب ضرور پوری ہوگی لیکن ابھی اس سال ہی اس کا وقت نہیں آیا تھا دوسرے وقت تک اس کی تاخیر کی مصلحت تم نہیں جانتے اللہ خوب جانتا ہے۔اسلئے تم تو اس کو جلد چاہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تاخیر میں ڈال دیا۔“ ( زاد المعاد جلد اوّل صفحہ ۳۸۴) یہ بیان اور خصوصاً فقرہ "أَحْبَبْتُمْ اسْتِعْجَال ذَالِکَ “ اس امر پر پختہ دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روی مدینہ منورہ میں ہی دیکھی اور پٹیالوی صاحب کا یہ کہنا کہ آنحضرت نے یہ خواب حدیبیہ کے مقام پر دیکھی تھی غلط بات ہے۔پنجم۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی لکھا ہے :- " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ میں کعبہ شریف کا طواف کرتا ہوں۔ہنوز مکہ شریف فتح نہ ہوا تھا کہ آنحضور علیہ السلام نے شوقیہ بطور خود سفر کی تیاری کر دی۔جب بمقام حدیبیہ قریب مکہ کے پہنچے تو کفار مکہ نے داخل مکہ ہونے سے روکا۔آخر کار معاہدہ ہوا کہ آئندہ سال ہم مسلمان آدیں گے۔“ (رسالہ الہامات مرز اصفحہ ۴۳) یہ اُردو عبارت بھی صاف بتارہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہی خواب دیکھا اور اسی کی بناء پر شوقیہ حضور عمرہ کے لئے روانہ ہو پڑے اور اس سفر کی تیاری اسی خواب کے پورا کرنے کے لئے تھی۔ششم - شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی لکھتے ہیں :- وو بدانکه آنحضرت صلعم بعد از دیدن این خواب بہتهیه اسباب سفر مشغول شد 66 و یاراں را خبر کرد که بعمرہ سے روم (مدارج النبوت صفحہ ۴۱۷ مطبوعہ کانپور ) (380)