تفہیماتِ ربانیّہ — Page 340
اس اعتراض کے کئی جواب ہیں :۔الجواب الاول - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس حوالہ کو بالکل جھوٹ قرار دینا گھلی سفاہت ہے کیونکہ کذب کی تعریف میں علم شرط ہے۔چھوٹی سی لغت کی کتاب المنجد میں لکھا ہے :- كذب : أَخْبَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِخَلَافِ مَا هُوَ مَعَ الْعِلْمِ بِهِ (صفحہ ۴۷۶) که کذب خلاف بیانی کو کہتے ہیں بشرطیکہ اس کے قائل کو علم ہو کہ یہ خلاف واقعہ ہے۔اس تعریف کی رُو سے اگر زید نے بکر گوریلوے سٹیشن پر دیکھا اور پانچ منٹ کے بعد زید سے اس کا پتہ پوچھا جائے اور وہ ریلوے سٹیشن بتائے حالانکہ بکر پہلے منٹ میں ہی سٹیشن سے نکل کے بازار چلا گیا ہو تو بھی زید جھوٹا نہیں ہوگا کیونکہ اسے بکر کے سٹیشن چھوڑنے کا علم نہیں۔ایسا ہی اگر کوئی سہو یا غلطی سے خلاف واقعہ بات کہدے تو وہ جھوٹ نہیں کہلائے گا ورنہ لفظ سہو اور غلطی کا لغت میں موجود ہونا عبث محض ہے۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ بجائے چار رکعت کے دورکعت نماز پڑھائی۔اس وقت ایک صحابی ذوالیدین نے عرض کی کہ کیا حضور بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یالم انسی ولم تقصر۔نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔تب ذوالیدین نے پھر کہا " بلی قد نسیت حضور ضرور بھول گئے ہیں۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے صحابہؓ سے دریافت فرمایا انہوں نے ذوالیدین کی بات کی تصدیق کی۔اس پر آپ نے پھر دو رکعتیں پڑھائیں۔( بخاری کتاب الصلوة - جلد اول صفحہ ۱۵۶) صحیح مسلم میں ہے:۔عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ انَّهُ قَالَ سَمِعْتُ آبَاهُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلوةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي كُعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ اقْصِرَتِ الصَّلوةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ذَالِكَ لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَاقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولُ اللهِ فَاتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَوَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَسْلِيم - “ (صحیح مسلم جلد ا صفحه (۲۱۵) کیا كُلُ ذَلِكَ لَمْ يَكُن “ کا جواب ( نعوذ باللہ ) جھوٹ شمار ہوگا ؟ ا ایک دوسری روایت میں ہے ما قصرت الصلوة و ما نسیت۔(موطا امام مالک) مؤلف (340)