تفہیماتِ ربانیّہ — Page 27
کی طرح جلد مٹ جاتا ہے اور ہر طور سے خائب و خاسر رہتا ہے۔مکذب نے اس طریق کو سنتِ الہی سے بھی تعبیر کیا ہے۔دراصل یہ اس کی ضمیر کی آواز ہے۔سچ ہے :- بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ) وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيَرَةُ ) آیت ولو تقول علینا میں مندرجہ شرائط بعض لوگ ناواقفی کے ماتحت چند لوگوں کے نام پیش کر دیا کرتے ہیں جن سے آیت ولو تقول علینا کے استدلال کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ معترض پٹیالوی نے بھی کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ان کا ذب مدعیان کی اصلیت دکھانے سے پیشتر آیت ولو تقول علینا کے شرائط بھی ذکر کر دوں تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ ایسے لوگوں کا ذکر اس موقعہ پر نہایت ہی بے جوڑ ہے۔اس آیت قرآنی کے الفاظ یہ ہیں۔وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ، فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ مُجزِين ( الحاقه رکوع ۲) اِن الفاظ میں جن شرائط کا ذکر ہے وہ حسب ذیل ہیں :- اول۔وہ مدعی الہام اپنے دعوئی میں تکلف اور تعتمد سے کام لے۔یعنی وہ یہ جانتے ہوئے کہ میں خود افتراء کر رہا ہوں ان باتوں کو الہام قرار دے۔مجنون اور دیوانہ معذور ہے کیونکہ اس کا قول و فعل تعمد کی بناء پر نہیں ہوتا۔شریعت اسلامی اور عقل کے رُو سے بھی وہ قابل نظر اندازی ہے۔پھر لفظ تقول کا صیغہ بھی باب تفعل سے ہے جو تکلف پر دلالت کرتا ہے۔اس لئے مجنون اس آیت کی زد میں نہیں آئے گا۔اور اس کا مہلت پانا اس آیت کے خلاف نہیں ہو سکتا۔چنانچہ تفاسیر میں بھی التقول الافتعال من التكلف درج ہے۔دوم۔وہ مدعی ہستی باری تعالیٰ کا قائل ہو اور اس کے علیحدہ وجود کا اقراری ہو اور اپنی باتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہو۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہی قائل نہیں یا محض اپنی باتوں کو الہام سے تعبیر کرتے ہیں وہ اس آیت کی زد سے باہر ہوں گے جیسا کہ آیت کا لفظ۔علینا “ صاف بتا رہا ہے۔سوم ایسا دعی لفظی الہام کا قائل ہو اور اپنی باتوں کو خدا کی باتیں قرار دیتا ہو۔جولوگ محض خیالات کو الہام کا مترادف سمجھتے ہیں اور دل میں آنے والی ہر بات 27