تفہیماتِ ربانیّہ — Page 317
کی ضمیر کا مرجع کون ہیں۔واللہ اگر ھم کا مرجع افتراء علی اللہ کرنے والے اور مدعی الہام ہوں تو معترض پٹیالوی کا دعویٰ درست راست اور برحق ہے لیکن اگر ھم کا مرجع مدعی الہام نہ ہوں بلکہ وہ لوگ ہوں جو کسی صادق مدعی الہام کی تکذیب کرتے اور اس کو جھٹلاتے ہوں تو پھر اس بات کے ماننے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ منشی محمد یعقوب اور اس کے راس المناظرین نے نہایت مکروہ دھوکہ دیا ہے اور وہ بھی مذہب اور قرآن مجید کے نام پر۔ع بس اک نگاہ پر ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا آئے قرآن مجید میں اس کا محل وقوع دیکھیں۔یادر ہے کہ یہ آیت قرآن پاک میں دو جگہ آئی ہے اور وہ دونوں موقعے یہ ہیں :۔(۱) وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا سَنَسْتَدُرِ جُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ وَأُمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينَ ، أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ إنْ هُوَ الَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (الاعراف رکوع ۲۳) ترجمہ۔جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہم ان کو درجہ بدرجہ اس جگہ لے جائیں گے جس کو وہ نہیں جانتے۔میں ان کو مہلت دوں گا تحقیق میری تدبیر مضبوط ہے۔کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدعی نبوت ) کو کوئی جنون نہیں۔بلکہ وہ توصرف گھلا گھلا ڈرانے والا ہے۔“ (۲) فَذَرْنِي وَمَنْ تُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ ، وَأَهْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينَ ، لَمْ تَسْلُهُمْ أَجْرًا فَهُمْ مِنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ (القلم رکوع ۲) ترجمہ۔اے رسول! مجھ کو اور اس کتاب کے مکذبین کو چھوڑ دے ہم ان کو لے جائیں گے ایسے طور پر کہ وہ نہ جان سکیں۔میں ان کو مہلت دوں گا میری تدبیر نہایت مضبوط ہے۔کیا تو ان سے کوئی اجر مانگتا ہے کہ وہ اس کی چٹی کی وجہ سے بوجھل ہورہے ہیں۔حضرات قارئین! آپ ان آیات پر اگر چھاتی ہوئی نگا بھی ڈالیں گے توآپ کو معلوم ہوجائے گا (317)