تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 316 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 316

کی ہلاکت کا زمانہ بھی محدود کر دیا کیونکہ بتادیا کہ کوئی مفتری جھوٹے الہام کا دعویٰ کر کے اور اس دعوی کی تشہیر کر کے اتنا عرصہ ہر گز زندہ نہیں رہ سکتا جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد دعوای وحی یا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ رہے۔اگر اس کی کوئی نظیر ہے تو بیان کرو اور پانصد روپیہ انعام لو۔علماء نے مخالفت کی اور شدید مخالفت کی مگر اس مطالبہ کو پورا نہ کر سکے اور تا قیامت نہیں کر سکتے مؤلف عشرہ نے اپنی کم علمی کے باعث بعض نام پیش کئے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی آیت لَوْ تَقَولَ کے معیار کے مطابق پورا نہیں اتر سکتا جیسا کہ ہم فصل اول میں مفصل لکھ چکے ہیں۔آیت املی لھم اور معترض پٹیالوی کا مغالطہ مندرجہ بالا دعوئی کی تردید کی دو ہی صورتیں تھیں (۱) یا تو واقعات سے دکھا دیا جاتا کہ ایک مفتری بھی ۲۳ سال تک زندہ رہا ہے اس میں مخالفین کو بے نظیر نا کامی ہوئی۔تواریخ کی ورق گردانی اور واقعات کی شہادت اسی بات پر متفق ہے کہ ایسی کوئی نظیر نہیں۔معترض پٹیالوی بھی ہمہ دعاوی تحقیق سراسر نا کام رہا ہے۔میں دعوئی سے کہتا ہوں اور بصیرت تامہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ وہ ایسی مثال تلاش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ خدا کے كلام ( وَلَوْ تَقَوّلَ عَلَيْنَا - الآية ) کا باطل ہونا زمین و آسمان کے فی الفور ٹل جانے سے بڑھ کر محال و ناممکن ہے۔(۲) دوسری صورت یہ تھی کہ قرآن مجید سے ثبوت دے دیا جا تا کہ مدعی الہام مفتری کو مہلت دی جاتی ہے۔اس کے لئے معترض نے لکھا ہے کہ :- قرآن شریف سے تو ایسے لوگوں (مفتریوں) کو مہلت دیئے جانے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَاُمْلِي لَهُمْ اِنَّ كَيْدِى مَتِين “ (عشر صفحه ۷۰) معترض پٹیالوی نے اپنے دعوے کی تائید میں ایک ہی آیت پیش کی ہے جس کا ترجمہ حاشیہ میں یوں کیا ہے :- " ہم ان کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن اس مہلت کے بعد ) ہماری گرفت بہت سخت ہے۔“ ہم اس ترجمہ کی صحت کو اعراضا عن البحث قبول کر لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں ان کو (316)