تفہیماتِ ربانیّہ — Page 309
ناظرین! ان تین حکمتوں کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعجازی کلام اور معجزانہ کتب میں تحدید مدت کی گئی ، ورنہ وہ آج بھی مجزہ ہیں اور تا قیامت معجزہ رہیں گی۔وہ صداقتِ احمدیت کا ایک زبر دست اور چمکتا ہو انشان ہیں۔افسوس ان دلوں پر جو ان باتوں کو نہ سمجھیں، اور افسوس ان آنکھوں پر جو گھلے گھلے معجزات کو دیکھ نہ سکیں۔براہین احمدیہ اور اعجازی کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کلام الہی کی بے مثلیت پر بحث کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:۔جس کو ذرا بھی عقل ہے وہ خوب جانتا ہے کہ جس چیز کو قوائے بشریہ 66 نے بنایا ہے اس کا بنانا بشری طاقت سے باہر نہیں ورنہ کوئی بشر اس کے بنانے پر قادر نہ ہو سکتا۔الخ " (عشرہ صفحه ۶۸ بحوالہ براہین احمدیہ صفحه ۱۵۹) اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد معترض پٹیالوی اپنے جہلِ مرتب کا مظاہرہ ان الفاظ میں کرتا ہے :- اب میرزائی صاحبان کو اختیار ہے کہ اپنے پیر کے فتویٰ کو رڈ کریں یا ان کی تصانیف کے اعجاز سے انکار کریں۔ایک جگہ مرزا صاحب کا جھوٹ ضرور ماننا پڑیگا۔(عشر صفحه (۲۹) الجواب - حضرت مرزا صاحب کا تو کسی جگہ جھوٹ نہیں صرف آپ کو اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہئے۔کیونکہ اعجازی کلام اور معجزانہ تصانیف آفتاب نیمروز اور صداقت باہرہ کی حیثیت حاصل کر چکی ہیں۔اور براہین احمدیہ کے حوالہ میں جس کلام کا ذکر ہے وہ بشری کلام ہے جس کو انسان خود بناتا ہے۔گو یا اعجازی تصانیف بجائے خود معجزہ ہیں اور براہین احمدیہ کے متذکرہ صد ر حوالہ کو ان سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہاں پر انسان کی اپنی تصنیف کا ذکر ہے جو انسانی طاقت کے اندر کی بات ہے۔پس ان دونوں کلاموں میں کوئی تعارض نہیں۔اب یہ سوال ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اعجازی تصانیف آپ کی اپنی طاقت سے ہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- (۱) اس خیال میں میرے مخالف سراسر سچ پر ہیں کہ یہ اس شخص کا کام نہیں کوئی اور پوشیدہ طور پر اس کو مدد دیتا ہے۔سوئیں گواہی دیتا ہوں کہ حقیقت میں ایک اور ہے جو مجھے مدد دیتا ہے۔لیکن وہ انسان نہیں بلکہ وہ قادر وتوانا (309)