تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 308 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 308

والناس تک خدا کے منہ سے انہی الفاظ میں نازل ہوا ہے۔اس میں غیر اللہ کی طرف سے ایک ذرہ بھر آمیزش نہیں۔وہ خدا کی وحی متلو اور تا قیامت ایک ہی غیر متبدل شریعت ہے یا بالفاظ حضرت مرزا صاحب نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم “ (کشتی نوح صفحه ۱۳) نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اعجازی کتب بتمامها الہام الہی نہیں۔بیشک بعض حصص الہامی بھی ہیں مگر اکثر و بیشتر حصہ حضور کی اپنی قلم سے، اپنے الفاظ میں لیکن اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید اور قوت کے ماتحت لکھا گیا ہے۔ان کتابوں کے معجزہ ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر ان کا قرآن پاک سے کوئی مقابلہ نہیں۔بہر حال قرآن مجید اپنے بلند مقام پر ہے اسلئے دونوں کے اعجاز میں تحدید وقت اور عدم تحدید کا فرق رکھا گیا ہے۔اگر تحدید نہ کی جاتی تو منشی محمد یعقوب وغیرہ شور مچانے میں قدرے حق بجانب ہو سکتے تھے۔اگر چہ وہ اب بھی شور مچارہے ہیں لیکن اب جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق تحدید کی گئی تو امرتسری منکر کہتا ہے کہ ”کیا قرآن شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے؟“ ہم اس سوال کا جواب تو اوپر درج کر چکے ہیں اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ان مکذبین کا مطلب حق جوئی نہیں بلکہ ان کو بہر صورت اعتراض کرنا ہی مد نظر ہے۔انہی لوگوں کا قول ہے مَهُمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ ايَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ۔(اعراف رکوع ۱۶) لے یعنی اپنے اعتقاد کے مطابق۔ورنہ بلحاظ حقیقت چونکہ یہ اعجازی کلام بھی قرآن مجید کی اتباع کا نتیجہ اور اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لئے تھا اسلئے مقابلہ ہی غلط ہے۔کے امام غزالی لکھتے ہیں : لَوْ قَالَ نَبِي آيَةُ صِدِّقِي الي فِي هَذَا الْيَوْمِ أَحَرِكَ اصْبَعِي وَلَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنَ الْبَشَرِ عَلَى مُعَارَضَتِي فَلَمْ يُعَارِضُهُ أَحَدٌ فِي ذَالِكَ الْيَوْمِ ثَبَتَ صِدقُهُ الْاِقْتِصَادُ فِي الْإِعْتِقَادِ صفحه ۹۴) یعنی اگر کوئی مدعی نبوت کہے کہ میری صداقت کی دلیل یہ ہے کہ میں آج انگلی ہلاتا ہوں اور کوئی میرے مقابل ایسا نہیں کر سکے گا اور فی الواقعہ اس دن کوئی نہ کر سکے تو اس کی صداقت ثابت ہو جائے گی۔گویا اعجاز کے لئے حد بندی مضر نہیں۔(مؤلف) (308)