تفہیماتِ ربانیّہ — Page 302
الجواب الثانی۔اگر فی الواقع وہ کتاب غلطیوں سے پر تھی اور مرتبۂ فصاحت و بلاغت سے ساقط تو پھر کیوں اس کی مثل بنانے میں عجز کا اظہار کیا گیا وہ تو غیر فصیح تھی تم ایک فصیح کتاب لکھتے اور اس کی غلطیوں کو بھی اپنی کتاب میں بطور ضمیمہ درج کر دیتے۔لیکن تمہارا ایسا نہ کرنا بتا تا ہے کہ یہ الزام محض ہزیمت خوردہ حریف کی طرح منہ چڑانا ہے۔کیا یہ معجزہ نہیں کہ جس کتاب کو تم غیر فصیح ، غلطیوں کا مجموعہ قرار دیتے تھے۔تم اس کے مقابلہ میں بھی عاجز آگئے۔اس کا غلط ہونا تو تمہارے لئے اور بھی آسانی پیدا کرتا تھا مگر پھر بھی خاموشی اور عاجزی صاف بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجبور کر کے تمہارے ہاتھوں کو اس کے مقابل کتاب لکھنے سے باز رکھا۔ہاں ان لوگوں کی طرح جو بڑے سے بڑے معجزہ کو دیکھ کر بھی انکار کی راہ ہی اختیار کیا کرتے ہیں ان لوگوں نے یہ بہانہ بنایا کہ اس کتاب میں غلطیاں ہیں۔العیاذ باللہ۔بسا اوقات ایک کم علم آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے فصیح کلام کو بھی غلط قرار دے دیتا ہے اور پھر جب خدا تعالیٰ کی کلام میں بعض جدید تراکیب کو استعمال کیا جائے تو پھر تو اس کے شور کی کوئی حد نہیں رہتی۔قرآن مجید میں ایک ترکیب لَمَا سُقِطَ فِي ايديهم مستعمل ہوئی ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے :- وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ هَذَا التَّرْكِيبَ لَمْ يُسْمَعْ قَبْلَ نُزُولِ الْقُرْآنِ وَلَمْ تَعْرِفُهُ الْعَرَبُ وَلَمْ يُوجَدُ فِي أَشْعَارِهِمْ وَ كَلَامِهِمْ فَلِذَا خَفِيَ عَلَى الْكَثِيرِ وَاخْطَوا فِي اسْتِعْمَالِهِ كَابِي حَاتِمٍ وَأَبِي نَوَاسٍ وَهُوَ الْعَالِمُ التحْرِيرُ وَلَمْ يَعْلَمُوا ذَالِکَ۔“ (روح المعانی جلد ۳ صفحه ۱۲۷) کہ عرب اس کو پہلے نہ جانتے تھے اور نہ وہ ان کے کلام میں نظم ہو یا نثر پائی جاتی تھی۔الجواب الثالث - معترض پٹیالوی نے چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی مزعومہ غلطیوں کو نقل نہیں کیا اس لئے ہم بھی ان کے ذکر کو نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ خطرہ ہے کہ کتاب کا حجم بڑھ جائے گا۔لیکن ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہ اس کے لئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم کی کتاب ” آئینہ حق نما اور حضرت استاذی المکرم جناب مولانا محمد اسمعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل کی تصنیف تنویر الابصار“ ضرور ملاحظہ کریں جن (302)