تفہیماتِ ربانیّہ — Page 301
ٹال دیا کہ اگر ہم چاہتے تو کہہ دیتے مگر ہم نے چاہا ہی نہیں لیکن اس کا فیصلہ ہر عاقل خود بخود سابقہ واقعات کو ملحوظ رکھ کر کر سکتا ہے کہ کیا انہوں نے چاہا یا نہیں چاہا۔بھائیو! کیا یہ ممکن ہے کہ وہ برق زبانی اور شیوا بیانیوں کے مدعی زبانیں سی کر اور لبوں کو بند کر کے چپ بیٹھے رہیں اور باوجود ایسے عذب البیان اور قادر الکلام ہونے کے دو چار جملے بنانے کی خواہش بھی نہ کریں؟ بے شک ہزیمت خوردہ اور در ماندہ آدمی بدحواس ہو کر ایسا ہی کرتا ہے۔“ (رسالہ اعجاز القرآن صفحہ ۴۴) ناظرین! آپ مندرجہ بالا اقتباس پڑھئے اور پھر سوچئے کہ کیا منشی محمد یعقوب صاحب نے وہی بات نہیں کہی جو ہزیمت خوردہ اور درماندہ آدمی بدحواس ہو کر کہا کرتا ہے؟ کیا یہی وہ ہتھیار ہیں جن پر دیوبندی فخر المحدثین نازاں تھے؟ اعجاز احمدی کی غلطیاں معترض پیٹیالوی مولوی ثناء اللہ امرتسری کے جواب کو ان الفاظ میں درج کرتا ہے :- قصیدہ کا فصیح و بلیغ ہونا تو بڑی بات ہے اس کے اندر انواع و اقسام کی غلطیاں ہیں۔آپ ان غلطیوں کو جو میں پیش کروں پہلے صاف کر دیں۔(عشرہ صفحہ ۶۷) الجواب الاول - غلطیاں بتانے کا دعوئی تو منکرین قرآن بھی کرتے رہے بلکہ بزعم خویش بعض اغلاط کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔نصاریٰ کی کتب تو اس باب میں بجائے خود ایک انبار ہیں۔لیکن اگر نبراس میں ہی طَعْنُ الْمَلَاحِدَةٍ فِي اعْجَازِ الْقُرْآنِ“ کی بحث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو جائے کہ جہاں ملحدین نے قرآن مجید میں اختلاف اور تناقض کا دعویٰ کیا ہے وہاں پر یہ بھی کہا ہے کہ :- إِنَّ فِيْهِ لَحْنا نَحْوَانُ هَذَانِ لَسَاحِرَانِ عَلَى قِراءَةِ إِنَّ الْمُشَدَّدَة “ (صفحه ۲۳۹) قرآن میں اغلاط بھی ہیں۔مثلاً یہی آیت إِنْ هَذَانِ لَسَاحِرَانِ اس قراءت کے مطابق جہاں ان مشدّدة پڑھا گیا ہے۔پس مولوی صاحب یا پٹیالوی صاحب کا دعوی لحن در اعجاز احمدی ہرگز قابل اعتنا نہیں۔(301)