تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 268 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 268

کر دو کہ وہ کیا کیا افتراء کرتے ہیں۔جس طرح آج یہ لوگ تمہارے خلاف لوگوں کو یہ باتیں کہہ کہہ کر برگشتہ کرتے ہیں کہ نہ اس کے ساتھ کوئی فرشتے نظر آتے ہیں، نہ کوئی مردوں کو زندہ کر کے دکھاتا ہے، نہ کوئی نشان نظر آتا ہے، سوائے دکانداری کے اور کچھ بھی نہیں۔اسی طرح ہر ایک نبی سے سلوک ہوا ہے۔اور ہر ایک کے متعلق شیطانی گروہ نے ایک دوسرے سے خوب سجا سجا کر یہی دھوکہ دینے والی اور ظاہر فریب اور دلفریب باتیں کہہ کر انہیں دھوکہ میں ڈالا ہے۔قرآن پاک کے اس عام قانون کے ماتحت ضرور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، پیغمبر قادیان کے خلاف بھی اسی طرح زخرف القول کی صورت میں جھوٹا پروپیگنڈا ہوتا اور مخالفین اس کو ایک دوسرے سے نقل کرتے اور اس سلسلۂ افتراء پردازی کو حد تک پہنچا دیتے۔زمانہ شاہد ہے کہ خدا تعالیٰ کا ارشاد برحق ہے۔حضرت مسیح موعود کے مخالف بالکل پہلے مکذبین کے دوش بدوش چل رہے ہیں۔آیات قرآنیہ سے وقت کی صداقت کا نعرہ لگا رہی ہیں ، احادیث صحیحہ اس کی تائید میں پکار رہی ہیں ، آسمان نے اس کے لئے شہادت دی ،سورج اور چاند اس کی تصدیق کی خاطر بے نور ہو گئے ، زمین بآواز بلند اس کی سچائی پر گواہی دے رہی ہے ، قوم کے حالات اس کا سچا ہونا اور بر وقت آنا ظاہر کر رہے ہیں۔صدی کا نصف تک گزر جانا اور کسی مدعی مجددیت کا کھڑا نہ ہونا اس کی راستبازی پر زبر دست برہان ہے۔مگر آہ! قوم اس کی شنوانہ ہوئی اور وہ الہی نوشتوں کے مطابق دھتکارا گیا۔اسی لئے رب السموات نے فرمایا تھا کہ :- دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔“ وہ راستباز تھا لیکن تاریکی کے فرزند ہر راستباز کو کاذب اور مفتری کہتے رہے۔أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ۔مخالفین نے اس کو مفتری قرار دیا۔ان کو ہر چند بتایا گیا ے افتراء کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثل مذت فخر الرسل فخر الخيار لے اور اب اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے وقت ۱۳۸۴ ہجری ہے، گویا صدی ختم ہونےکو ہے ( ابو العطاء) (268)