تفہیماتِ ربانیّہ — Page 267
فصل ششم دس افتراؤں کی حقیقت مفت میں ملزم خدا کے مت بنو اے منکرو ! یہ خدا کا ہے ، نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار افتراء لعنت ہے اور ہر مفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار ( حضرت مسیح موعود ) سنت اللہ اسی طرح واقع ہوئی ہے کہ جب وہ انبیاء کو مبعوث فرماتا ہے تو ایک گروہ اپنی سیاہ باطنی کے باعث ، دنیا کی فضاء کو تاریک تر کرنے کے لئے ان سے برسر پیکار ہو جاتا ہے۔فرمايا وكذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِ يُوْحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ، وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (انعام رکوع ۱۴) کہ ہر صادق نبی کے بالمقابل کچھ ایسے لوگ کھڑے ہو ا کرتے ہیں جو ایک دوسرے کو جھوٹی اور فتنہ خیز باتیں بتلاتے ہیں۔فرمایا اگر خدا کو جبر یہ ہدایت دینا مقصود ہوتا تو یہ معاندت اور مخالفت کبھی سر نہ اٹھا سکتی۔مگر ہمیں اختیاری ہدایت منظور ہے اسلئے اس امر کو نظر انداز (267)