تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 258 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 258

ڈال دینا در حقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ہر ایک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں۔اور مفلوج ، مبروص ، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔جن لوگوں کے معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گزرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین و یسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی 66 صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۲۷) گو یا عمل الترب بالذات کوئی بڑی چیز نہیں ، ہاں جو اس کا بُرا استعمال کرتا ہے اور مسمریزم وغیرہ کی صورت میں اس کا ناجائز طریق اختیار کرتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔البتہ بلند روحانیت کے لحاظ سے یہ کوئی اعلی کمال نہیں اسی لئے حضرت اقدس نے اپنے لئے اس کو نا پسند فرمایا ہے بلکہ حضور نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی تحریر فرمایا ہے :- " حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو اُن کی فطرت میں مرکوز تھے باذن وحکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۲۷) ہمارے اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح کے معجزة خلق الطیور کو عمل الترب کہہ کر اس کی تو ہین نہیں فرمائی بلکہ آپ نے صرف اسی حقیقت کو جس کا تمام مفسرین کو اقرار ہے ایک جدید اصطلاح «عمل الترب“ کے ذریعہ بیان فرما دیا ہے۔ایک دوسری جگہ آپ نے تحریر فرمایا ہے :- اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الهام هوا هذا هو الترب الذى لا يعلمون يعنى يہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۲۸ طبع سوم ) (258)