تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 254 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 254

نے حقیقی پرندے اور طبعی حیات پانے والے پرندے نہیں تسلیم کئے؟ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی طور پر کسی کا خالق من دون اللہ ہونا ناممکن ، حال اور ممتنع ہے۔پرندے تو بڑی چیز ہیں انسان ایک کیڑے کا پاؤں اور ملٹھی تک بنانے سے عاجز ہیں۔معبودانِ باطلہ کی شان میں فرمانِ۔خداوندی ہے۔لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَواجْتَمَعُوالَهُ - اس جگہ ہم معترض پٹیالوی اور اس کے تمام ہمنواد یو بندیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر خلق الطیور کی تاویل جرم ہے ، گناہ ہے ، موجب کفر ہے تو ان تمام مفسرین کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔اگر اصل الفاظ کو تسلیم کرتے ہوئے تفصیل کے متعلق تاویل کی اجازت ہے تو حضرت مرزا صاحب کا کیا قصور ہے؟ کیا یہ وہی طریقہ نہیں جو تمام مفسرین نے اختیار کر رکھا ہے یعنی تاویل۔پس اگر یہ گناہ ہے تو بع ایس گناہیست که در شهر شما نیز کنند حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ :۔” یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ سچ کے جانور بنا دیتا تھا۔“ (عشرہ صفحہ ۶۲ بحوالہ ازالہ اوہام) کیا تمہارے اہلِ فہم اور زیرک مفسرین میں سے ایک بھی ہے جو سیح کے بنائے ہوئے جانوروں کو سچ مچ کے جانور تسلیم کرتا ہو؟ معجزات عیسوی اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام معترض کا اس اعتراض سے ایک منشاء یہ بھی ہے کہ گویا حضرت مرزا صاحب حضرت مسیح کے معجزات کے ہی منکر تھے۔اس قدر تو سچ ہے کہ حضوران معجزات کو شرک کی ملونی والی صورت میں تسلیم نہیں کرتے اور نہ کوئی موحد انسان ایسا مان سکتا ہے۔لیکن مطلق معجزات کے منکر ہرگز نہیں۔ذیل میں اس کے متعلق چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :۔(الف) ایک صاحب ہدایت اللہ نام جنہوں نے انکار معجزات عیسوی کا الزام اس عاجز کو دیکر ایک رسالہ بھی شائع کیا ہے وہ اپنے زعم میں ہماری کتاب ازالہ اوہام کی بعض عبارتوں سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گویا ہم نعوذ باللہ سرے سے حضرت (254)