تفہیماتِ ربانیّہ — Page 238
میں چولے رکھنا اس زمانہ میں فقیروں کی ایک رسم تھی۔پس یہ بات بہت صحیح ہے کہ باوا صاحب کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولا ان کو دیا تھا۔ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ جنم ساکھیوں میں بھی لکھا ہے کہ چونکہ باوا صاحب نیک بخت آدمی تھے ، اور بڑی مردانگی سے ہندوؤں سے قطع تعلق کر بیٹھے تھے ، مرد میدان بھی بڑے تھے اور ایک شخص حیات خان نامی افغان کی لڑکی سے نکاح بھی کیا تھا، اور ملتان اور چند دوسرے اولیاء اسلام کے مقبروں پر چلہ کشی بھی کی تھی ، اس لئے خدا سے الہام پا کر یہ چولا انہوں نے بنایا تھا۔یہ ان کی کرامت ہے گویا چولا آسمان سے اترا (نزول مسیح صفحه ۲۰۴-۲۰۵) حضرات ناظرین! ان عبارتوں پر مکر ر غور فرمائیں اور معترض پٹیالوی کی عقل و فہم پر ماتم کریں۔کس قدر کھلی بات ہے کہ انگر کی جنم ساکھی کا ایک بیان ہے جو خود محض ایک تاریخ ہے۔اسلئے اگر چہ اللہ تعالیٰ کی وسیع قدرتوں کے پیش نظر ایسا ہونا محال نہیں لیکن تاہم ” چولا صاحب کے آسمان سے اتر نے کی اور بھی صورتیں ممکن ہیں کیونکہ فانی فی اللہ انسان کا کام یا خدا کے الہام کے مطابق کیا گیا کام خدا ہی کا کام اور کلام کہلاتا ہے گفته او گفته الله بود۔گر چه از حلقوم عبد الله بود ܀ لہذا ہو سکتا ہے کہ حضرت بابا نانک نے الہام پا کر خود چولہ ارشاد الہی کے مطابق بنایا ہو یا ان کے مرشد نے آسمانی رہنمائی سے ایسا کیا ہو۔جو بھی صورت ہو گی بہر حال اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہی وقوع پذیر ہوگی۔اس لئے اس کو حسب منطوق آیت وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللهَ رَی اور وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ آسمان سے انتر ا ہو ا کہنا جائز ہے۔گویا تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں (۱) یہ چولہ بعینہ آسمان سے اترا ہو (۲) بابا صاحب نے حسب الہام خود تیار کیا ہو (۳) بابا صاحب کے مسلمان مرشد نے بارشاد خداوندی آپ کو دیا ہو۔ان ہر سہ صورتوں کو ممکن قرار دینے سے اعتراض بے جا ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ عقلی طور پر آسمان سے اترنے کی یہی تو جیہ ہوا کرتی ہے اور یہی آسمانی کتب کا محاورہ ہے۔(238)