تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 197 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 197

-: پھر ایک اور روایت میں آتا ہے کہ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرُّوا بِجَنَازَةٍ فَاثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْراً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرُوْا بِأُخْرَىٰ فَاثْنَوْا عَلَيْهَا شَرّاً فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ مَا وَجَبَتْ فَقَالَ هَذَا اثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْراً فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهَذَا اثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرّاً فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَ آء الله فِي الْأَرْضِ - متفق علیہ۔(مشکوۃ مجتبائی کتاب الجنائز صفحه ۱۴۵) ترجمہ - حضرت انسٹ کہتے ہیں کہ صحابہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی۔رسول پاک نے فرما یا واجب ہوگئی۔پھر ایک اور جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی برائی بیان کی۔آپ نے پھر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔حضرت عمر نے عرض کی حضور کیا واجب ہوگئی ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جس کی تم نے نیک تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے مذمت کی اس کے لئے آگ واجب ہوگئی۔کیونکہ تم زمین میں خدا کے گواہ ہو۔بخاری اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے۔“ اندریں صورت حضرت مرزا صاحب کے الہام کو خلاف شریعت کہنا شریعت سے پرلے درجہ کی جہالت کا ثبوت دینا ہے۔پانچواں الهام - رَبِّ سَلِطْنِى عَلَى النَّارِ۔اے اللہ مجھے دوزخ کا 66 وو اختیار دیدے۔الجواب۔معترض نے اس جگہ دھوکہ دینے کے لئے النار کے معنی آگ کی بجائے اگلے جہان کا دوزخ کرلئے ہیں۔حالانکہ النار کے معنے اس جگہ آگ کے ہیں۔اور آگ سے خدا کے عذاب طاعون وغیرہ مراد ہیں۔چنانچہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا کہ کہو :- آگ سے ہمیں مت ڈرا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ (البشر کی جلد ۲ صفحه (۸۸) اللہ تعالیٰ کا اپنے برگزیدہ بندوں سے یہی معاملہ ہے۔حضرت ابراہیم کو لوگوں نے (197)