تفہیماتِ ربانیّہ — Page 196
خودسید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے :- تمام امور مقبولوں کے ہی اثر وجود سے ہوتے ہیں، اور ان کے انفاس پاک سے اور ان کی برکات سے یہ جہان آباد ہورہا ہے، انہی کی برکت سے بارشیں ہوتی ہیں، اور انہی کی برکت سے دنیا میں امن رہتا ہے اور وبائیں دُور ہوتی ہیں ، اور فساد مٹائے جاتے ہیں، اور انہی کی برکت سے دنیا دار لوگ اپنی تدابیر میں کامیاب ہوتے ہیں ، اور انہی کی برکت سے چاند نکلتا ہے ، اور سورج چمکتا ہے۔وہ دنیا کے نور ہیں، جب تک وہ اپنے وجود نوعی کے لحاظ سے دنیا میں ہیں دُنیا منور ہے، اور ان کے وجود نوعی کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا ، کیونکہ حقیقی آفتاب و ماہتاب دنیا کے وہی ہیں، بنی آدم کی مرادات بلکہ زندگی کا مدار وہی لوگ ہوتے ہیں۔اور بنی آدم کیا ہر ایک مخلوق کے ثبات اور قیام کا مدار اور مناط وہی ہیں۔اگر وہ نہ ہوں تو پھر دیکھو کہ بنوں سے کیا حاصل ہے اور تدبیروں سے کیا حاصل؟ یہ ایک نہایت باریک بھید ہے جس کے سمجھنے کے لئے صرف اسی دُنیا کی عقل کافی نہیں بلکہ وہ نور درکار ہے جو عارفوں کو ملتا ہے۔“ ( آسمانی فیصلہ صفحہ ۱۸-۱۹ طبع سوم ) اس حقیقت کے پیش نظر جبکہ اس نوع کے ایک عظیم الشان فرد حضرت مرزا صاحب بھی ہیں تو ان کو اگر لولاك لما خَلَقْتُ الافلاک کا الہام ہو گیا تو اس میں خلاف شریعت کونسا امر ہے؟ ع سخن شناس به دلبر اخطا اینجا است چوتھا الهام ”جس سے تو راضی اُس سے خدا راضی۔جس سے تو ناخوش اس سے خدا نا خوش معلوم نہیں کہ معترض کو اس میں کیا اعتراض نظر آتا ہے۔کیا اولیاء اللہ کی شان کا بھی اسے علم نہیں دیکھئے حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- " مَنْ عَادَى لِي وَلِيَّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ لِلْحَرْب۔( بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ) جو شخص میرے ولی سے دشمنی کرے میں اس کو لڑائی کا چیلنج دیتا ہوں۔“ (196)