تفہیماتِ ربانیّہ — Page 172
اب ہر ایک شخص جو کچھ بھی عقل رکھتا ہے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ تمام کلمات جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی شان میں فرمائے ہیں یہ سب ان کے محامد اور ان کی تعریفیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کی ہیں کسی بندہ نے نہیں کیں۔پس یہ خیال سراسر لغو ہے کہ خدا تعالیٰ کسی بندہ کی تعریف نہیں کرتا اور یہ اس کی ذات کے منافی ہے۔میہ امر تو اظہر من الشمس ہے کہ یہ تمام تعریفی کلمات اللہ تعالیٰ نے عرش پر سے ہی فرمائے ہیں کیونکہ قرآن پاک کہتا ہے الرَّحْمنُ عَلَى الْعَرْشِ استوی کہ خدا تعالی عرش پر مستوی ہے۔لہذا اب اعتراض ہر رنگ میں غلط ثابت ہوا۔سعدی مرحوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرما گئے ہیں۔پھر کہتے ہیں۔خدایت ثنا گفت و تبجیل کرد زمیں بوس قد ر تو جبریل کرد تراع لولاک تمکین بس است ثنائے تو طه و لیسین بس است خدا کی ثناء حاصل کرنے کا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ” يحمدك “ کے لحاظ سے صرف اپنی ہی خصوصیت نہیں فرمائی بلکہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ اپنے اخلاص میں ترقی کر جاتا ہے تو "" عِنْدَ ذَالِكَ يَكُونُ الْعَبْدُ الْمُخْلِصُ فِي الْعَمَلِ مَحْبُوبًا فِي الْحَضْرَةِ فَإِنَّ اللهَ يَحْمَدُهُ مِنْ عَرْشِهِ " پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوب بن جاتا ہے اور خدا تعالیٰ عرش پر سے اس کی تعریف کرتا ہے۔“ (اعجاز اسیح صفحه ۱۰۴) گویا یہ ہر مخلص بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہوتا ہے۔اس کے حاصل کرنے کے ذریعہ کے متعلق فرمایا ہے ے اگر خواهی که حق گوید شناید بشو از دل ثناء خوان محمد کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو محمد ہیں اُن کے مدح خوان بن جاؤ خدا تمہاری تعریف کرے گا۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو صلی الله عليه عشر ا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ (172)