تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 114 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 114

کر دیا۔اس کے اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت خیز زلزلہ مرزا صاحب کی زندگی میں آنا چاہئے تھا۔کیونکہ حضور نے ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ۹۷ میں اسے اپنی زندگی میں ہی ضروری بتایا ہے۔اس کے جواب میں اوّل۔یا د رکھنا چاہئے کہ قیامت خیز زلزلہ کے متعلق حضرت اقدس نے اپنا الہام ذکر فرما کر بتا دیا ہے کہ وہ معرض تاخیر میں پڑ گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تحریر فرماتے ہیں :- میں نے دُعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے اس دُعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ربّ آخِرُ وَقتَ هَذَا آخَرَهُ اللهُ إِلى وَقْتٍ مَسَمی۔یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۰ حاشیہ ) گویا حضور نے بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام آخَرَهُ اللَّهُ إِلَى وَقْتٍ مَسَمَّى “ کے ذریعہ ”زندگی“ والی قید کو اُڑا دیا۔یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کی شرط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا اجتہاد تھا لیکن الہام الہی نے وضاحت کر دی کہ وہ زلزلہ نمونہ قیامت تاخیر میں پڑ گیا۔پھر اس سے بھی بڑھ کر صریح الفاظ میں مذکور ہے کہ وہ قیامت خیز زلزلہ حضرت کی زندگی میں نہ آئے گا۔الہامی دُعا ہے رب لا تُرِيَنِّي زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ کہ اے خدا! مجھے کو قیامت خیز زلزلہ نہ دکھا۔( ریویو آف ریجنز مارچ ء) پس جب الہام کے الفاظ میں زندگی کی قید نہیں تھی بلکہ اس کی تردید تھی تو پھر معترض کا یہ کہنا کہ چونکہ مرزا صاحب کی حیات میں کوئی زلزلہ ایسا نہیں آیا الخ خود بخو دباطل ہو گیا۔دوم - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف زلازل اور نشانات کی پیشگوئیاں فرمائی ہیں جو سب اپنے اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔حضور اپنے الہام ” چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار کے حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں :- اس وحی الہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے۔“ (114) (حقیقۃ الوحی حاشیه صفحه ۹۳)