تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 100 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 100

چونکہ آخر صدی کا یا مثلاً آخر ہزار کا اس صدی یا ہزار کا سر کہلاتا ہے جو اس کے بعد شروع ہونے والا ہے اور اس کے ساتھ پیوستہ ہے اس لئے یہ محاورہ ہر ایک قوم کا ہے که مثلاً وہ کسی صدی کے آخری حصے کو جس پر گویا صدی ختم ہونے کے حکم میں ہے۔دوسری صدی پر جو اس کے بعد شروع ہونے والی ہے اطلاق کر دیتے ہیں۔مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مجد دبارہویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا تھا گو وہ گیارہویں صدی کے اخیر پر ظاہر ہو ا ہو۔یعنی گیارہویں صدی کے چند سال رہتے اس نے ظہور کیا ہو۔“ (تحفہ گولڑو یہ طبع اوّل حاشیه صفحه (۹۲) پس اب حل ہو گیا کہ تریاق القلوب کی عبارت میں صدی کے سر سے مراد حضور کے نزدیک ۲۹۰ ہجری ہی ہے۔یہ اول تو ظاہر ہی ہے کہ تفسیر القول بما لا یرضی به قائله درست نہیں۔بلکہ بعے تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں، کے مطابق وہی معنے لینے پڑیں گے جو خود حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمائے ہیں۔بہر حال ثابت ہو ا کہ ۲۹۰ ھ میں حضرت مسیح موعود کی عمر ۴۰ سال تھی اور ۳۲۶ ہجری میں حضور کا انتقال ہو اتو گل عمر ۶ ۷ سال ثابت ہوگئی۔فلا اعتراض۔دوسرے حوالہ کا جواب معترض نے حضرت اقدس کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے حوالہ سے کشف کا ذکر کیا ہے جس کی رُو سے حضور نے ابتداء دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک گل زمانہ ۴۷۳۹ سال قرار دیا ہے اور پھر اپنی پیدائش گیارہ سال کم چھٹے ہزار پر قرار دی ہے۔معترض نے اس انوکھے طریق سے حضرت مسیح موعود کی عمر ۶۵ سال قرار دی ہے۔الجواب۔کیا عمر کے دریافت کرنے کا یہی طریق ہے کہ ہزاروں سالوں کے حساب کئے جائیں۔بھلا اس قدر دور از کار استدلال کی کیا ضرورت تھی جبکہ حضرت نے صاف لکھا ہے کہ ١٢٩٠ ہجری میں میں مامور ہو چکا تھا (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۹ ) اور دوسری جگہ تحریر فرمایا ہے کہ میں چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوا۔گویا آپ کی پیدائش کا سال ۱۳۵۰ ہجری ہے۔جناب معترض ! اگر آپ کے نزدیک تحفہ گولڑویہ کی عبارت سے سن پیدائش ۱۲ ہجری بنتا ہے تو یہ ہزاروں کی اُلجھن میں پڑنے کا نتیجہ ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ 100