تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 82

علامات المقربين ۸۲ اردو ترجمه و آخر ما ينتهى إليه أمرهم أنهم ان كے معاملہ کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ وہ موت کے يحيون بعد مماتهم ويوصلون بعد زندہ کئے جاتے ہیں اور ٹوٹنے کے بعد جوڑے بعد انفتاتهم، ويَرِدُ عليهم موت جاتے ہیں اور ان پر موت کے بعد موت وارد ہوتی بعد موت ثم يُعطون حياةً سرمدا ہے پھر ان کے اخلاص کے باعث انہیں حیات ابدی عطا کی جاتی ہے۔اور وہ ابلیس کی گمراہ کن لمصافاتهم، ويُحفظون من عُواء پکار اور ذکر الہی سے اعراض کرنے والوں اور اس إبليس وممن يعشو عن ذكر الله قسم کے افراد کی دشمنی سے بچائے جاتے ہیں۔جب ومن معاداتهم، وإذا بلغوا وہ اپنا مقصد پا لیتے ہیں تو پھر انہیں ایک ایسا مقام غاياتهم يُعطون مقامًا لا يعلمه عطا کیا جاتا ہے جسے مخلوق نہیں جانتی اور وہ ان کے الخلق ويـنـأون عن عَرَصاتهم، صحنوں سے دور رہتے ہیں اور وہ ایسا نور بن جاتے ويكونون نورًا تخسأ منه العيون ہیں جس سے آنکھیں ماندہ ہو جائیں۔وہ اللہ کے وفی نور الله يغيبون۔ولا يعرفهم نور میں گم ہو جاتے ہیں۔ان کی حقیقت کو بجز اس إلا الذي يُعرفه الله ويكونون شخص کے جس کو اللہ نے ان کے متعلق معرفت دی غيب الغيب وروح الروح ہو ، کوئی اور دوسرانہیں جان سکتا۔وہ نہاں در نہاں روح کی روح اور ہر مخفی سے زیادہ مخفی وجود ہو جاتے ہیں کہ ان پر پڑنے والی نظر ماندہ ہو کر لوٹ آتی البصـر مـنهـم خـاسـا ولا يرى۔ہے اور دیکھ نہیں پاتی۔جب ان کا نام جو آسمان وأخفى من كل أخفى، يرجع وإذا تم اسمهم الذي في السماء میں ہے اور ان کے رب اعلیٰ کے ہاں اپنی تکمیل کو وعند ربهم الأعلى، وكمّل پہنچ جاتا ہے اور جب ان کا وہ کام پورا ہو جاتا ہے أمرهم الذي أراد الله وقضى جس کا اللہ نے ارادہ اور فیصلہ کیا ہوتا ہے تو آسمان نُودِى في السماء لرجوعهم إلى میں ان کی آسمان کی طرف واپسی کی منادی کر دی السماء ، فإلى ربهم يبوء ون جاتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف لوٹ جاتے ہیں