تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 5

تذكرة الشهادتين اردو ترجمه قيل ما معنى الدعاء بعد قدر لا کہا جاتا ہے کہ نہ رڈ ہونے والی تقدیر اور نہ ٹلنے والی يرد، وقضاء لا يُصَدَ؟ فاعلم أن قضاء وقدر کے بعد دعا کے کیا معنی ؟ سویا در ہے کہ یہ هذا السر مور تضلّ به العقول راز ایک ایسی راہ ہے جس میں عقلیں بھٹک جاتیں ويغتال فيه الغول، ولا يبلغه إلا اور غول بیابانی ہلاک ہو جاتا ہے۔اس (راز ) کو من يتوب، ومن التوبة يذوب، صرف تو بہ کرنے والا ہی پاتا ہے تو بہ سے وہ پگھل فلاتزيدوا الخصام أيّها اللئام جاتا ہے۔اس لئے اے کمینو! تم جھگڑے کو طول مت دو اور جو میں کہتا ہوں اسے ذہن نشین کر لو، کیونکہ وتلقفوا منى ما أقول، فإنّي عليم ومن الفحول ، وليس لكم حظ میں اہل علم اور نابغہ روزگار ہوں اور تمہاری اسلام سے وابستگی محض علامتی نمائشی اور رسمی ہے اس لئے من الإسلام إِلَّا مِيسمه ، أولبوسه جو شخص میرے ان حقائق کو گوش ہوش سے سنے گا ورسمه، فمن أرهف أُذنه لسمع هذه الحقائق، وحفد إليـنـا اور ایک ذوق و شوق رکھنے والے مضطر شخص کی طرح ہماری جانب بسرعت دوڑتا ہوا آئے گا تو میں اس کو كاللّهيف الشائق ، فسأخفره بما ایسی امان دوں گا جو اُس کے تمام شکوک و شبہات دور يَسُرُو رِيبَته ويَمُلأ عيبته ، وهو أنّ کر دے گی اور اس کی زنبیل (خانہ دل ) کو بھر دے الله جعل بعض الأشياء معلقًا گی۔اور وہ راز یہ ہے کہ اللہ نے قدیم سے بعض ببعضها من القديم، وكذالك اشياء كو بعض سے وابستہ کیا ہوا ہے اسی طرح اُس نے علق قدره بدعوة المضطر الأليم قضاء و قدر کو بھی ایک دردمند اور مضطر انسان کی دعا فمن نهض مُهَرُولًا إلى حضرة کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔پھر جو شخص ایستادہ ہوکر العزة ، بعبرات متحدّرة ودموع بہتے آنسوؤں اور چشم اشکبار اور ایسے دل کے ساتھ جارية من المقلة ، وقلب يضجر ربّ العزة كى طرف بھاگتا ہوا آتا ہے جو اس كأنه وضع على الجمرة ، طرح بے چین ہو گویا اسے انگیٹھی پر رکھ دیا گیا ہو