تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 2

تذكرة الشهادتين اردو ترجمه ونرى أن العدا من كل حدب اور ہمیں نظر آ رہا ہے کہ دشمن ہر بلندی کو پھلانگتے ينسلون، وما يلتقى جمعان چلے آرہے ہیں اور جب کبھی دو لشکروں میں مٹھ إلا وهم يغلبون۔فظهر مما بھیٹر ہوتی ہے تو وہی غالب آتے ہیں۔اس مشاہدہ ظهر أن الوقت وقت الدعاء سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ وقت دعا اور خدائے والتضرع في حضرة الكبرياء بزرگ و برتر کے حضور عاجزی سے گڑ گڑانے کا لا وقت الملاحم وقتل الأعداء ، وقت ہے نہ کہ جنگوں اور دشمنوں کو قتل کرنے کا ومن لا يعرف الوقت فيلقى نفسه وقت۔اور جو وقت کی نزاکت کو نہیں سمجھے گا وہ اپنے إلى التهلكة ، ولا يرى إلا أنواع آپ کو ہلاکت میں ڈالے گا اور ہر طرح کی نکبت النكبة والذلة۔وقد نكست أعلام اور ذلت دیکھے گا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مسلمانوں حروب المسلمين ألا ترى؟ کی جنگوں کے پر چم سرنگوں کر دیئے گئے ہیں۔و أين رجال الطعن والسيف کہاں ہیں نیزہ اور شمشیر اور ہاتھوں کو چلانے والمدى ؟ السيوف أُعْمِدَت ، والے۔تلواریں میانوں میں رکھ دی گئیں اور والرماح كُسرت، وأُلقى الرعب نیزے توڑ دیئے گئے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں في قلوب المسلمين، فتراهم في رعب ڈال دیا گیا۔پس تو انہیں ہر میدان میں کل موطن فارين مدبرين۔وإن پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے دیکھتا ہے۔جنگ نے الحرب نهبت أعمارهم ان کی زندگیاں چھین لی ہیں اور ان کے زرو جواہر وأضاعت عسجدهم وعقارهم ، اور جائیدادوں کو تباہ کر دیا ہے۔ان جنگوں کے ومـا صـلـح بها أمر الدين إلى هذا ذریعہ دین کا کوئی معاملہ اب تک سلجھ نہ سکا بلکہ الحين، بل الفتن تموّجت وزادت ، وصراصر الفساد فتنے موج در موج اُٹھے اور بڑھتے چلے گئے اور أهلكت الملة وأبادت ، وترون فساد کی باد صرصر نے ملت کو تباہ و برباد کر دیا۔تم قصر الإسلام قد خرّت شَعفاته ، دیکھ رہے ہو کہ قصر اسلام کے کنگرے گر گئے