تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page vi of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page vi

ج ارشاد امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ا چاہئے کہ ایسے آدمی منتخب ہوں جو تلخ زندگی کو گوارا کرنے کیلئے تیار ہوں اور ان کو باہر متفرق جگہوں میں بھیجا جائے بشر طیکہ اُن کی اخلاقی حالت اچھی ہو اور تقویٰ اور طہارت میں نمونہ بننے کے لائق ہوں۔مستقل، راست قدم اور بُردبار ہوں اور ساتھ ہی قانع بھی ہوں۔اور ہماری باتوں کو فصاحت سے بیان کر سکتے ہوں۔مسائل سے واقف اور متقی ہوں کیونکہ متقی میں ایک قوت جذب ہوتی ہے وہ آپ جاذب ہوتا ہے وہ اکیلا رہتا ہی نہیں۔( ملفوظات جلد 9 صفحہ 415-416)۔” ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ علمی طور سے کچھ کر کے دکھانے والے ہوں تبلیغ سلسلہ کے واسطے ایسے آدمیوں کے دوروں کی ضرورت ہے۔مگر ایسے لائق آدمی مل جادیں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ بھی اشاعت اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہ میں سے کوئی شخص پہنچا ہو گا۔اگر اسی طرح ہیں یا تمہیں آدمی متفرق مقامات میں چلے جاویں تو بہت جلدی تبلیغ ہو سکتی ہے۔مگر جب تک ایسے آدمی ہمارے منشا کے مطابق اور قناعت شعار نہ ہوں تب تک ہم اُن کو پورے پورے اختیارات بھی نہیں دے سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایسے قانع اور جفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے چوں پر ہی گزر کر لیتے تھے۔اگر کچھ ایسے لائق اور قابل آدمی سلسلہ کی خدمات کے واسطے نکل جاویں جو فقط لوگوں کو اس سلسلہ کی خبر ہی پہنچا دیں تو بھی بہت بڑے فائدہ کی توقع کی جاسکتی ہے"۔لمقومات بار 10 صفحہ 241-242