تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 42 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 42

کرشمہ دکھایا کہ حسن اتفاق سے ایک احمدی فوجی افسر کرنل تقی الدین احمد صاحب کا۔وہاں سے گزر ہوا۔انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سڑک کے کنارے ایک شخص کو مردے کی طرح پڑا دیکھ کر آپ نے اپنی جیپ روکی اور دیکھتے ہی پہچان لیا۔فوری طور پر ہسپتال پہنچایا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آپ کی جان بچائی ورنہ غیر احمدی دشمنوں نے تو اپنی طرف سے مار کر یہ یقین کر لیا تھا کہ ان کا کام تمام ہو چکا ہے۔۳ حضرت مولانا محمد صادق صاحب سماٹری مرحوم اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت اور معجزانہ حفاظت کا ایک اور ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں۔یہ بھی اسی زمانہ کی بات ہے جب جنگ عظیم ثانی کے دوران جاپان نے اپنا تسلط انڈو نیشیا تک وسیع کر لیا تھا۔ان کے کامل اقتدار کا یہ عالم تھا کہ اپنی من مانی کاروائیاں کرتے۔کسی کے متعلق ذراسی بھی شکایت پہنچتی تو فوراً اس کی موت کا بہانہ بن جاتی۔نہ کوئی تحقیق ہوتی نہ کوئی تفتیش۔بس فیصلہ سنا دیا جاتا بلکہ عموماً فیصلہ سنانا بھی ضروری نہ سمجھا جاتا۔فورا ہی سزائے موت نافذ کر دی جاتی۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ دو شکایات کی بناء پر میرے متعلق جاپانی حکومت نے قتل کا فیصلہ کیا۔اور مذکورہ بالا پس منظر میں نہ اپیل کی گنجائش تھی اور نہ بچنے کی کوئی امید۔ایک مومن اور مجاہد کا واحد سہارا اس کا خدا ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی تو اس نے بذریعہ خواب یہ اطلاع دی کہ جاپانی حکومت اپنے برے انجام کو پہنچنے والی ہے۔یہ خواب اپریل ۱۹۴۵ ء کی ہے۔چند ماہ کے اندر اندر ۱۴ اگست کو جاپانی حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے۔۔اس فیصلہ کا اعلان انڈو نیشیا میں ۲۲ اگست کو ہوا۔جاپانی حکومت کی شکست کے بعد حکومت جاپان کے کاغذات سے معلوم ہوا کہ ۱۲۳ اور ۲۴ اگست کی درمیانی رات ۶۵ آدمیوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ان