تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 14
۱۴ جاتی ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ایک اور صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں انگلستان جارہا تھا تو فرانس سے گزرنے کے لئے جس قدر رقم کی ضرورت تھی اس میں دو پونڈ کی کمی تھی۔میں نے سوچا کسی سے قرض لے لوں لیکن جہاز میں کوئی میرا شناسا نہ تھا۔جب بالکل مایوس ہو گیا تو میں نے اس رنگ میں دعا کی کہ اے زمین و آسمان کے مالک، اے خشکی و تری کے خالق ، تو ہر چیز پر قادر ہے اور تجھے ہر طاقت اور قدرت حاصل ہے۔میں تبلیغ کی راہ میں نکلا ہوں اور تو جانتا ہے کہ اس وقت مجھے دو پونڈ کی شدید ضرورت ہے پس تو یہ دو پونڈ دے دے، خواہ آسمان سے گرایا سمندر سے نکال لیکن دے ضرور۔آپ فرماتے ہیں کہ دعا کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ضرورت اب ضرور پوری ہو گی۔لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ بالکل اجنبی جگہ اور اجنبی آدمیوں میں یہ دو پونڈ کیسے ملیں گے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ جہاز چلتے چلتے اچانک ایک ایسی جگہ رک گیا جہاں رکنے کا ہر گز کوئی پروگرام نہ تھا۔میں نے جہاز سے اتر کر خشکی پر جانے کا ارادہ کیا کہ شاید کسی احمدی سے ملاقات ہو جائے لیکن اجازت نہ مل سکی۔تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کشتی جہاز کی طرف آرہی ہے۔اس کشتی پر ایک احمدی دوست حاجی عبد الکریم صاحب تھے۔انہیں کسی طرح سے میرے انگلستان جانے کا علم ہو گیا تھا۔ملاقات کے بعد واپس جانے لگے تو دو پاؤنڈ میری جیب میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے۔" مجھے آپ کے لئے مٹھائی لانی چاہئے تھی مگر مجھے تو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ جہاز یہاں ٹھہرے گا۔اس لئے یہ دو پاؤنڈ مٹھائی کے لئے رکھ لیں" اس واقعہ میں سوال دو پاؤنڈ کا نہیں۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ایک مجلد فی سبیل اللہ کی جو ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مجرمانہ رنگ میں پوری کی اور غیب سے اس کے سلمان مہیا فرما دیے۔۵