تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 2
مخالفت کی شدید آندھیوں میں جو چیز ان کے دلوں کو ایمان ویقین عطا کرتی اور ان کو ثبات قد۔ان کو ثبات قدم اور جرات رندانہ بخشتی ہے وہ خدائے قادر و توانا کا یہ ازلی وعدہ ہے كتب اللهُ لَا غَلِبَنَ اَنَا وَرُسُلي خدا تعالی کی یہ حتمی تقدیر ہے کہ انجام کار اللہ تعالیٰ اور اس کے فرستادہ رسول ہی غلبہ حاصل کریں گے ظاہر ہے کہ یہ غلبہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں۔تاریخ انبیاء اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ تائید و نصرت الہی کا ابر رحمت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر سایہ فگن رہتا ہے۔ان کی زندگی اول و آخر تائید الہی سے عبارت ہوتی ہے۔اور اسی تائید کے سایہ میں وہ اپنے مقصد بعثت کو تمام و کمال حاصل کرتے ہیں۔چونکہ انبیاء کرام کا وجود مجسم تبلیغ اور مجسم تائید الہی کا مظہر ہوتا ہے اس لئے میں انبیاء کرام ہی کی چند مثالوں سے اس مضمون کا آغاز کرتا ہوں۔اگرچہ یہ موضوع ایک بحر بے کراں ہے اور پھر واقعات کی عظمت اور گہرائی اتنی ہے کہ ایک مستقل بیان کی متقاضی ہے تاہم میرے لئے ناممکن ہے کہ اس مقدس گلستان سے چند پھول چنے بغیر آگے گزر سکوں۔حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن طوفان نوح کا شکار ہوئے اور ان کے بچے متبعین کو خدا تعالیٰ نے ایک عظیم کشتی کے ذریعے محفوظ و مامون رکھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف نمرود نے زور آزمائی کی۔دلائل کے میدان میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسے ایسا لا جواب و ساکت کیا کہ متکبر نمرود کلیتہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔اپنی طاقت کے نشہ میں اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں زندہ جلا کر حق کی