تبلیغِ ہدایت — Page 41
حضرت مسیح بھی کریں گے دوسرے یہ کہ توفی کے معنے آسمان کی طرف اُٹھا لینے یا سلا دینے کے نہیں ہیں بلکہ وفات دینے کے ہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے متعلق توئی کا لفظ استعمال کر کے اس لفظ کے معنوں کی تعیین فرما دی ہے۔اسی لئے امام بخاری اس حدیث کو بخاری کی کتاب التفسیر میں لائے ہیں۔اب جبکہ قرآن شریف سے یہ مسئلہ صاف ہو گیا کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں تو اب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث اس مسئلہ کے متعلق کیا کہتی ہے۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : - ان عیسی ابن مريم عاش عشرين ومائة سنة (طبرانی و کنز العمال جلد 4 عن حضرت فاطمہ )۔یعنی عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے دیکھو یہ حدیث کس صفائی کے ساتھ حضرت مسیح کی وفات کی خبر دے رہی ہے۔پھر ایک اور موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- لو كان موسیٰ وعيسى حيين لما وسعهما الا اتباعی۔(ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۲۴۶) یعنی اگر موسی اور عیسی اس وقت زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر مسیح کی وفات کے متعلق کیا صراحت ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ اگر حضرت مسیح اس وقت زندہ ہوتے تو میری پیروی کے بغیر انہیں بھی چارہ نہیں تھا اور دوسری حدیث میں ان کی عمر بھی بتا دی جسے پورا ہوئے صدیاں گذر چکی ہیں۔ایک واضح دلیل حضرت عیسی کی وفات کی یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلعم نے انہیں معراج کی رات وفات شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا۔منہ) ان تمام دلائل سے جو اس جگہ قرآن شریف اور احادیث سے دیئے گئے ہیں یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح“ دوسرے انسانوں کی طرح وفات پاچکے ہیں۔اب اگر بفرض محال کوئی ایسی حدیث یا قرآنی آیت ہو بھی جس میں ہمارے مخالفوں کے نزدیک اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہو کہ حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہیں تو قرآن شریف کے بتائے ہوئے گر کے مطابق ہمیں چاہئے کہ ایسی آیت یا حدیث کے وہ معنے نہ کریں جو آیات محکمات اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہوں بلکہ ہمارا فرض ہے کہ تمام متشابہات کو محکمات کے ماتحت لا دیں۔ورنہ نعوذ باللہ یہ ماننا ہوگا کہ خدا کے کلام میں تناقض ہے خوب غور کرو کہ جب قرآن شریف کی آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث 41