تبلیغِ ہدایت — Page 25
اسی طرح اور بہت سی احادیث میں بھی نزول مسیح کا ذکر موجود ہے۔دوسرا مسئلہ۔ظہور مہدی کا ہے۔سو اس کے متعلق قرآن شریف میں آتا ہے:- هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُقِبِينَ رَسُوْلاً مِنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ أَيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ ( وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ۔(سوره جمعه (ع) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنا رسول عربوں میں مبعوث کیا ہے جو ان پر خدا کی آیات پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے بعد اس کے کہ وہ مختلف قسم کی گمراہیوں میں مبتلا تھے اور اسی طرح یہ اللہ کا رسول ایک بعد میں آنے والی جماعت کی بھی تربیت کرے گا جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی“۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے استعارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دوسرے بعث کی پیشگوئی فرمائی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ کسی بعد میں آنے والی امت کی تربیت آپ اسی رنگ میں فرما سکتے ہیں کہ آپ کا کوئی خلق اور بروز مبعوث کیا جائے۔جس کا آنا گویا آپ کا آنا ہو اور جو آپ سے فیض پاکر آپ کے قدم پر آپ کی امت کی اصلاح کا کام کرے اور یہی مہدی ہے چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت اتری تو صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آخرین کون ہیں؟ اس پر آپ نے اپنے ایک صحابی سلمان فارسی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا گیا یعنی دنیا سے گو یا بالکل مفقود ہو گیا تو پھر بھی ان اہل فارس میں سے ایک شخص اس کو وہاں سے اُتار لائے گا اور اُسے دنیا میں پھر قائم کر دے گا۔( بخاری تفسیر سورۃ جمعہ ) غرض قرآن شریف کی اس آیت یعنی سورۃ جمعہ میں ایک بروز محمدی کی پیشگوئی کی گئی ہے اور وہی مہدی ہے۔اسی طرح احادیث میں بھی کثرت کے ساتھ مہدی کی پیشگوئی موجود ہے مثلاً ابوداؤد میں ایک حدیث آتی ہے کہ :- لولم يبقى من الدنيا الايوم لطوّل الله ذلك اليوم حتى يبعث فيه رجلاً متى او من اهل بيتي يواطئ اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى يملأ 25