تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 24 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 24

یعنی ”اے لوگو ہم نے اسی طریق پر اور اسی رنگ میں تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جس طرح کہ موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیجا تھا۔“ گو یا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کا مثیل قرار دیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ سورہ نور کی آیت استخلاف مِنْ قَبْلِكُمْ سے مراد حضرت موسی کی امت ہے۔اب ہم امتِ موسویہ کے خلفاء کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس میں حضرت موسیٰ“ کے بعد کثرت کے ساتھ خلفاء قائم کئے گئے جو تورات کی خدمت کے لئے آتے تھے اور بالآخر حضرت موسی سے تیرہ چودہ سو سال بعد حضرت مسیح ناصری کی بعثت ہوئی جو حضرت موسی کے خلفاء میں سب سے افضل تھے اور گویا امت موسویہ کے خاتم الخلفاء تھے۔پس جبکہ سلسلہ خلفاء میں امت محمدیہ کی مشابہت امتِ موسویہ کے خلفاء کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور اسی طریق پر اس امت میں سلسلہ خلفاء کا وعدہ دیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ اس امت میں بھی آخری خلیفہ مسیح ناصری کے قدم پر ظاہر ہو جو اس اُمت کا خاتم الخلفاء ہو۔لہذا ثابت ہوا کہ آیت استخلاف میں جہاں مسلمانوں میں عام خلفاء کا وعدہ ہے وہاں خاص طور پر ایک عظیم الشان خلیفہ کا بھی وعدہ ہے جو حضرت مسیح ناصری کا مثیل ہوگا اور مسیح محمدی کہلائے گا اور اسی زمانہ کے قریب قریب ظاہر ہوگا۔جس طرح کہ حضرت موسیٰ کے بعد موسوی مسیح ظاہر ہوا۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَوْشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيْكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْحَرْبَ ( صحیح بخاری مطبع مجتبائی کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی بن مریم) یعنی ” مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح ابن مریم نازل ہوگا جو گم و عدل بن کر تمہارے اختلافات کا فیصلہ کریگا اور وہ صلیب کو تو ڑ کر رکھ دے گا اور خنزیر کو قتل کر دیگا اور جنگ کو موقوف کر دیگا۔24 24